گمنام قبروں کی تحقیقات سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے نامعلوم قبروں میں دفن ایک ہزار افراد کی شناخت کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ کشمیر میں قائم ایک نتظیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ان قبروں کی نشاندھی کر لی ہے جہاں ان کے الزام کے مطابق لاپتہ ہونے والے شہری دفن ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر گزشتہ دو دہائیوں میں بے پناہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے والدین کی ایک تنظیم نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سرحد کے قریب اُڑی کے علاقے میں ایسے درجنوں دیہات کی نشاندھی کی ہے جہاں ان کے بقول لاپتہ ہونے کے بعد ہلاک کیئے جانے والے شہریوں کو دفنایا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے ان ایک ہزار کے قریب لاپتہ افراد کی شناخت کی جانی چاہیے۔ بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے باسٹھ کلو میٹر دور کچامہ کے گاؤں میں بھی بہت سے لاپتہ افراد کی قبریں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گاؤں میں دو سو سے زیادہ ایسی قبریں ہیں جن پر مرنے والے کی شناخت کے بارے میں کچھ درج نہیں ہے۔
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان میں دفن لوگوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے جبکہ پولیس نے ان کو یہ بتایا تھا کہ یہ غیر ملکی شدت پسند ہیں جو فوج سے لڑائی میں مارے گئے تھے۔ گاؤں والوں کے مطابق یا تو یہاں دفنائی جانے والی لاشیں بری طرح جلی ہوئی تھیں یا ان کے چہرے اس قدر مسخ تھے کہ ان کی شناخت کی جانی ممکن نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں دفنائی جانے والی لاشوں کو جب دو ماہ بعد نکالا گیا تو ان کی شناخت سری نگر کے دو شہریوں کے طور پر ہوئی جن کو مبینہ طور پر پولیس کی تحویل میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت میں ملوث پولیس اہلکار اس دن سے مفرور ہے۔ گزشتہ سال کشمیر کے دوسرے حصوں میں پولیس نے کم از کم پانچ ایسی لاشوں کو قبروں سے نکلا تھا جو کشمیر کے شہریوں کی تھیں اور حکام نے انہیں غیر ملکی شدت پسند کہہ کر دفنایا تھا۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن پرویز امروز نے کہا کہ غیر ملکی شدت پسندوں کا نام لے کر بھارت کی سیکورٹی فورسز نے بہت سے حراست کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کو دفنا دیا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سربراہ ایس ایم سہائے نے ان نامعلوم قبروں میں دفن لوگوں کی شناخت کرنے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ گمشدگی کی تمام شکائتوں کی پولیس نے تفتیش کی ہے اور جن کیسوں میں ضروری سمجھا گیا ان کے مقدمات بھی درج کیئے گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد کشمیر میں لاپتہ ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر: گمنام قبروں کی تحقیقات01 April, 2008 | انڈیا سرینگر دھماکہ، ایک ہلاک19 March, 2008 | انڈیا کشمیر: کتّے مارنے کی مہم معطل08 March, 2008 | انڈیا ’خون کو کیسے نہیں پہچانیں گے‘04 March, 2008 | انڈیا زرداری کے بیان پر کشمیری ناراض03 March, 2008 | انڈیا کشمیر: مشرف حامی سیاست کو دھچکہ23 February, 2008 | انڈیا انڈیا: تین پاکستانی فوجی گرفتار11 February, 2008 | انڈیا کشمیر:شراب نوشی میں نمایاں اضافہ30 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||