BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گمنام قبروں کے انکشاف کے بعد رضاکار خوفزدہ

حاجی یوسف
حاجی یوسف کہتے ہیں انہوں نے تین سال قبل گمنام لاشوں کی تدفین بند کر دی تھی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے بعض شمالی دیہات میں کئی مقامات پر گمنام قبروں کی دریافت کے بعد مقامی رضاکاروں نے سرکاری اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

کچہامہ تین ہزار نفوس پر مشتمل بارہ مولہ کا بالائی مگر زرخیز گاؤں ہے، جہاں حقوق انسانی کی ایک مقامی تنظیم نے گزشتہ دنوں دو سو سے زیادہ گمنام قبروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔


یہاں کے ایک سابق جنگجو کمانڈر غلام محمد میر ایک فوجی آپریشن کے دوران اپاہج ہونے کے بعد سماجی بہبود کے لئے سرگرم ہیں۔ وہ بے نام لاشوں کو دفنانے سے متعلق کافی معلومات رکھتے ہیں، کیونکہ ایسی لاشوں کو دفنانے سے قبل وہ ان کی تصویر لیتے تھے تاکہ لاشوں کو ان کے لواحقین تک پہنچانے میں آسانی ہو۔

میر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم لوگ ان قبروں میں دفن بے نام افراد کی شناخت چاہتے ہیں، اسی لئے ہم یہاں آنے والے رضاکاروں یا صحافیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ مجھے گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔‘

اس نمائندے کے ساتھ جب وہ فتح گڑھ کی ایک پہاڑی پر واقع چند بے نام قبروں کی نشاندہی کررہے تھے، مقامی پولیس کے خفیہ شعبہ کے بعض اہلکار وہاں آن پہنچے۔

گمنام قبریں
ضلع بارہ مولا میں مقامی لوگوں کے مطابق دو سو سے زیادہ گمنام قبریں ہیں
سری نگر سے پینسٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فتح گڑھ علاقہ سے تعلق رکھنے والے حاجی محمد یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے اپنی بستی میں تین سال قبل بے نام لاشوں کو دفنانے کا سلسلہ ترک کردیا تھا۔

ان کا کہنا ہے: ’اب ایسی لاشوں کو فوج کے نزدیکی کیمپ کے اسلحہ خانے کے قریب دفنایا جاتا ہے، جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔‘

حاجی محمد یوسف نے بتایا کہ کچہامہ کے ارشاد احمد اور زونی یار گاؤں کے نذیر احمد میر پچھلے سولہ سال سے لاپتہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’ہم لوگ اپنوں کی جدائی کا غم سمجھتے ہیں، اسی لئے جب پولیس یا فوج کسی بے نام لاش کو ہمارے سپرد کرتی ہے، ہم اس کی تلاشی لیتے ہیں اور فوٹو کھیچتے ہیں۔ ایک دن تو ایک افغان جنگجو کی جیب سے گرینیڈ برآمد ہوا جو ہم نے دوسرے دن پولیس کے حوالے کر دیا۔‘

یہ پوچھنے پر کہ کیا ساری بے نام لاشیں غیر کشمیری جنگجوؤں کی تھیں حاجی یوسف نے بتایا: ’میں نے چیچنیا اور سوڈان کے جنگجوؤں کو بھی اس قبرستان میں دفنایا۔ لیکن زیادہ تر نوجوان کشمیری تھے جنہیں افغان یا پاکستانی کہہ کر ہمیں سونپا جاتا تھا۔ افغان یا پاکستانی ملی ٹینٹ مارنے کے لئے زیادہ پیسے ملتے ہیں اسی لئے سب کو یہی لیبل لگایا جاتا ہے۔‘

حاجی یوسف کہتے ہیں کہ وہ ایسی لاشوں کی باقاعدہ تدفین کے علاوہ ان کے حق میں تعزیتی اور دعائیہ مجالس کا بھی اہتمام کرتے تھے: ’لیکن اب ایسا ناممکن ہے کیونکہ فوج اور پولیس یہ ناگوارہ ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد