کشمیر: رضاکاروں کی عوامی عدالت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم جماعتوں نے بعض ہندوستانی رضاکاروں کے ہمراہ ایک ’عالمی عوامی عدالت‘ کا قیام کیا ہے جو مسلح شورش کے دوران فوجی و پولیس اہلکاروں سمیت جنگجوؤں کے ’جنگی جرائم‘ کی تفتیش کرےگی۔ انٹرنیشنل یپپلز ٹربیونل کے عنوان سے اس ’عوامی عدالت‘ کے قیام کا اعلان مقامی رضاکار پرویز امروز ، کیلیفورینا یونیورسٹی کی ہندوستانی نژاد پروفیسر اونگنا چٹرجی اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے وکیل مِہیر دیسائی نےدیگر ہندوستانی و مقامی رضاکاروں کے ہمراہ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ٹربیونل کے دیگر نگراں رضاکاروں میں کولیشن آف سِول سوسائٹیز کے سربراہ پرویز امروز، صحافی ظہیرالدین اور ہندوستان کے نامور انسانی حقوق رضاکار گوتم نولکھا شامل ہیں۔ مسٹر امروز نے ٹربیونل کے طریقہ کار کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ فی الحال ٹربیونل کی تفتیش سال دوہزار تین سے دوہزار آٹھ تک کے عرصہ پر محیط ہوگی، تاہم اُنیس سو نواسی (جب کہ مسلح شورش کا آغاز ہوا) سے دو ہزار تین تک ہوئے واقعات تفتیش کا بنیادی حوالہ ہونگے۔ اونگنا چیٹرجی اور مِہیر دیسائی نے اس موقعہ پر کہا کہ’پچھلے اٹھارہ سال سے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا ہے اور انصاف کے بغیر مفاہمت ممکن ہی نہیں‘۔
اونگنا چیٹرجی نے عالمی ٹربیونل کی ضرورت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ہندوستان ایک ابھرتا ہوا سُپرپاور ہےاور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا امیدوار بھی۔ ایسے میں ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کو جواب دہ بنایا جائے۔ ہم یہ تفتیش جموں کشمیر اور ہندوستان کے آئین اور عالمی ضوابط کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔‘ پرویز امروز نے اس موقعہ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز ٹربیونل کا مقصد کسی کا مواخذہ کرنا نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم کے واقعات کو معتبر طریقہ پر جمع کرکے عالمی رائے عامہ کو منظم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کا یہ کام دو سال کے عرصہ میں مکمل کیا جائے گا، اور بعد ازاں تفتیش کے مشاہدات کو عوام اور عالمی اداروں کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں گمنام قبروں کی تحقیقات سے انکار02 April, 2008 | انڈیا قبریں کھولنےکا کام معطل06 February, 2007 | انڈیا فرضی مقابلے، قبریں کھولنےکا کام معطل05 February, 2007 | انڈیا جعلی مقابلے، تحقیقات کا حکم04 February, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، 16پولیس اہلکارگرفتار 03 February, 2007 | انڈیا گمنام قبروں کے انکشاف کے بعد رضاکار خوفزدہ02 April, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||