BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 April, 2008, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: رضاکاروں کی عوامی عدالت

پریس کانفرنس کے دوران انسانی حقوق کے کارکن
ٹربیونل کی تفتیش سال دوہزار تین سے دوہزار آٹھ کے عرصہ پرمحیط ہوگی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم جماعتوں نے بعض ہندوستانی رضاکاروں کے ہمراہ ایک ’عالمی عوامی عدالت‘ کا قیام کیا ہے جو مسلح شورش کے دوران فوجی و پولیس اہلکاروں سمیت جنگجوؤں کے ’جنگی جرائم‘ کی تفتیش کرےگی۔

انٹرنیشنل یپپلز ٹربیونل کے عنوان سے اس ’عوامی عدالت‘ کے قیام کا اعلان مقامی رضاکار پرویز امروز ، کیلیفورینا یونیورسٹی کی ہندوستانی نژاد پروفیسر اونگنا چٹرجی اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے وکیل مِہیر دیسائی نےدیگر ہندوستانی و مقامی رضاکاروں کے ہمراہ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ٹربیونل کے دیگر نگراں رضاکاروں میں کولیشن آف سِول سوسائٹیز کے سربراہ پرویز امروز، صحافی ظہیرالدین اور ہندوستان کے نامور انسانی حقوق رضاکار گوتم نولکھا شامل ہیں۔

مسٹر امروز نے ٹربیونل کے طریقہ کار کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ فی الحال ٹربیونل کی تفتیش سال دوہزار تین سے دوہزار آٹھ تک کے عرصہ پر محیط ہوگی، تاہم اُنیس سو نواسی (جب کہ مسلح شورش کا آغاز ہوا) سے دو ہزار تین تک ہوئے واقعات تفتیش کا بنیادی حوالہ ہونگے۔

اونگنا چیٹرجی اور مِہیر دیسائی نے اس موقعہ پر کہا کہ’پچھلے اٹھارہ سال سے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا ہے اور انصاف کے بغیر مفاہمت ممکن ہی نہیں‘۔

پریس کانفرنس کے دوران انسانی حقوق کے کارکن
کشمیر میں مسلح شورش کے دوران ہزارورں افراد لاپتہ ہوئے ہیں
انہوں نے جموں کشمیر میں بھاری فوجی جماؤ کو ’پوری آبادی کو غلام بنانے کی کوشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھتیس گڑھ میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چھہ ہزار نکسلیوں کے خلاف صرف اڑھائی ہزار نیم فوجی دستے موجود ہیں ، لیکن کشمیر میں ساڑھے چار سو جنگجوؤں کے خلاف پانچ لاکھ سے زائد افواج تعینات ہیں۔

اونگنا چیٹرجی نے عالمی ٹربیونل کی ضرورت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ہندوستان ایک ابھرتا ہوا سُپرپاور ہےاور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا امیدوار بھی۔ ایسے میں ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کو جواب دہ بنایا جائے۔ ہم یہ تفتیش جموں کشمیر اور ہندوستان کے آئین اور عالمی ضوابط کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔‘

پرویز امروز نے اس موقعہ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز ٹربیونل کا مقصد کسی کا مواخذہ کرنا نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم کے واقعات کو معتبر طریقہ پر جمع کرکے عالمی رائے عامہ کو منظم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کا یہ کام دو سال کے عرصہ میں مکمل کیا جائے گا، اور بعد ازاں تفتیش کے مشاہدات کو عوام اور عالمی اداروں کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔

حاجی یوسفکشمیر: گمنام قبریں
انکشاف کے بعد رضاکار سرکار سے خوفزدہ ہیں
کشمیر کی بےنام قبریںیہ بےنام قبریں
کشمیر میں بےنام قبروں کے قبرستان: تصاویر میں
اسی بارے میں
قبریں کھولنےکا کام معطل
06 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد