کشمیر:خاتون بٹالین کو لیکر گرمجوشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کشمیر میں پہلی بار خاتون پولیس پر مشتمل ایک بٹالین بنائی جا رہی ہے۔ اس بٹالین میں شامل ہونے کے لیے دور دراز کے پہاڑی علاقوں سے لڑکیاں بڑی تعداد میں آرہی ہیں اور ضلع ہید کواٹر میں بھرتی کا کام زور و شور سے چل رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے پسماندہ علاقوں میں عورتوں کو روزگار ملے گا اور ان کی ’امپاورمنٹ‘ بھی ہو گی۔ قشطوار میں اس بٹالین کی بھرتی کام مکمل ہوچکا ہے۔ یہاں اکیاسی عورتوں کو منتخب کیا گيا ہے۔ منتخب خاتون کو پولیس ٹریننگ اکادمی میں تربیت دی جائے گی اور اس کے بعد یہ باضابطہ طور پر پولیس کے کام میں مامور ہو جائیں گی۔ خاتون بٹالین کی بھرتی سے متعلق خاص بات یہ ہے کہ پولیس میں بھرتی کے لیے خواتین میں زبردست جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ تیزسرد ہواؤں کے باوجود چھترو، دچن، مارواہ اور پدّر جیسے دور دراز علاقوں سے بڑی تعداد میں خواتین بھرتی کے عمل میں شامل ہونے کے لیے شریک ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض خواتین تو ان مقامات سے آئيں تھی جو کبھی شدت پسندی کا محور ہوا کرتے تھے۔
عام طور پر ہندوستانی سماج میں خواتین کا پولیس اور فوج جیسی سروسز میں لیکن شدت پسندوں کے خوف و ڈر کے باوجود بھرتی کے لیے آنا کم حیران کن نہيں ہے۔ بھرتی کے عمل میں شریک ہونی والی خواتین کا تعلق مسلمان، ہندو اور سکھ مذاہب سے ہے۔ کشمیر میں حکام اس بھرتی کے ذریعہ خواتین کو روزگار دینا چاہتے ہیں۔ قشطوار میں بھرتی کی نگرانی کرنے والے کمانڈیٹ مہیش شرما کے مطابق ’امن و امان کی بحالی اور آپریشن میں کئی جگہ خواتین کی ضرورت پڑتی ہے۔‘ بھرتی کے اس عمل میں خواتین کے قد اور ان کی جسمانی فٹنس کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔ بھرتی کے لیے آنے والی لڑکیوں میں سے زیادہ تر کی عمریں اٹھارہ سے اٹھائس سال کے درمیان ہیں۔ اور بعض شادی شدہ ہيں۔ شکیلہ کی چھ مہینے پہلے ہی شادی ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہيں’ میں بندوق اٹھاکر لڑسکتی ہوں۔ ملیٹینسی سے لڑوں گی اور لڑائی جھگڑوں کو دور کروں گی۔‘
کچھ ہی اسی طرح کاخیال سازیہ کا بھی ہے ۔ وہ کہتی ہیں’ جو بھی حکم ہوگا اس کی تعمیل کی جائے گی۔ اپنے ملک کے لیے۔‘ بھرتی کے لیے لڑکیاں شلوار قمیض زیب تن کرکے آئی تھیں اور بعض نے اپنے سر کو دوپٹے سے ڈھک رکھا تھا۔ پولیس میں شمولیت کے بعد ڈیوٹی کے دوران ان کے پاس شلوار قیمض پہنے کا متبادل تو ہوگا، لیکن امن و امان کے قیام اور آپریشن کے دوران انہيں پینٹ قمیض پہننی ہوگی۔ پینٹ قمیض پہننے کے بارے میں پوچھے جانے پر سبھی نے کہا’ کیوں نہيں، ڈیوٹی کے لیے ہم پینٹ قمیض بھی پہنیں گی۔‘ کشمیر کے پسمنادہ علاقوں سے پولیس کی بھرتی میں شامل ہوکر ان لڑکیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ڈر، خوف اور شش و پنج کی تمام دیواریں توڑ کر آئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے خواتین امپاورمنٹ کو نئی سمت ملے گی۔ |
اسی بارے میں ’زندگی کے پھیکے رنگ‘ 18 June, 2006 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا کشمیر، امن عمل کو خطرہ ؟20 June, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش: قطرہ قطرہ بنے دریا ۔۔۔۔15 March, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا لڑکا چاہیے: ایک کروڑ لڑکیاں ہلاک09 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||