کشمیر میں جونکوں سے علاج کا طریقہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض ہسپتالوں میں جونکوںوں سے خون چسوانے کا طریقۂ شروع کیا گیاہے۔ تین ہسپتالوں کے ڈاکٹر دل کی بیماری، آرتھرائٹس یعنی گٹھیا، لاعلاج سردرد اور سائینس جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے جونکوںوں کا استعمال کر رہے ہيں۔ جن مریضوں کی بیماری روایتی دواؤں سے ختم نہیں ہوتی ہے عام طور پر ایسے ہی مریض جونکوںوں سے علاج پر آمادہ ہوتے ہیں۔ جونکوںوں کے ذریعے علاج کے پروگرام کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ علاج سے ’چونکانے والے نتائج‘ سامنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ انیسویں صدی کے اواخر تک جونکوںوں کو دواؤں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ کشمیر کے جن ہسپتالوں میں علاج کے لیے جونکوں کا استعمال ہو رہا ہے وہ یونانی ادویات کے روایتی طریقوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اس طریقہ کو ہندوستانی صحت عامہ کے حکام کی طرف سے اجازت حاصل ہے۔ سپور شہر کے یونانی ہسپتال کے ایک مریض عبدالرزاق میر کا کہنا ہےکہ انہیں گزشتہ دو دہائیوں سے لاعلاج سردرد اور زکام تھا اور ان کی بینائی تک متاثر ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہيں’ایلوپیتھی دوائیں ہمیں شفا فراہم کرنے میں ناکام رہی ہيں۔ امید ہے کہ جونکوں سے علاج مفید ثابت ہوگا‘۔ عبدالرشید بھٹ گزشتہ تین برس سے جلد کی بیماری میں مبتلا ہيں۔ وہ کہتے ہيں’میں نے کئی ڈاکٹروں سے علاج کرایا ہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ میں اب جونکوں کے ذریعے علاج کے لیے آیا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ شفا پاؤں گا۔ لوگوں نے مجھے کہا کہ اس سے فائدہ پہنچتا ہے‘۔ ہڈیوں کی بیماری کے مریض غلام حسن بھی تحفظات کے ساتھ پُرامید ہيں: ’میں دوائیں لیتا رہا اور فزیوتھیراپی بھی کروائي لیکن کوئی فائدہ نہيں ہوا۔ اب میں جونکوں سے علاج کروانے آیا ہوں۔ ممکن ہے درد ختم ہو جائے لیکن ابھی میں کچھ بھی نہيں کہہ سکتا‘۔
ڈاکٹر ناصر احمد حکیم تین ہسپتالوں کی نگرانی کرتے ہيں۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس انہوں نے کم از کم دو سو مریضوں پر جونکوں کا استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ جونکیں ’معجزاتی ڈاکٹر‘ ہوتی ہیں۔ وہ اپنے آپ میں دوا کی ایک فیکٹری ہوتی ہیں اور کئی طرح کے انزائم بناتی ہے۔ بقول حکیم صاحب جونکوں کی رال میں سو سے زیادہ بایوایکٹیو مادہ ہوتا ہے جو خون چوسے جانے کے دوران مریض کے جسم میں چلا جاتا ہے۔ آج کل یونانی کالجز جونکوں کے علاج کی تربیت نہيں دیتے اس لیے ڈاکٹر حکیم نے جونکوں سے متعلق کام کرنے والے روایتی لوگوں سے مریض پر جونکوں کا استعمال کرنے میں مدد لی جاتی ہے۔ جب ایک جونک کو ایک بار کسی مریض پر استعمال کرلیا جاتا ہے تو اسے مار دیا جاتا ہے تاکہ ایک مریض کی بیماریاں کسی دوسرے منتقل نہ ہوں۔ حکیم صاحب کو ایلوپیتھی ڈاکٹروں کی جانب سے زبردست نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ جب ایلوپیتھی کے ڈاکٹروں کو جونکوں سے علاج کے اثرات کے بارے میں یقین دلایا گیا تو کئی ڈاکٹر اس علاج کے لیے آگئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلوپیتھی کے ڈاکٹر ڈائبیٹک فُٹ (ذیابیطیس کے مریض کے پیر میں ہونے والی پریشانیاں) کے لیے میگٹ نامی کیڑے کا استعمال کر رہے ہيں۔ ان کا کہنا ہےکہ میگیٹ میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ خراب خلیوں (ٹشوز) کو کھا لیتی ہے لیکن اچھے خلیے کو نہیں کھاتی۔ سری نگر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں میڈیسین شعبہ کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالوحید بانڈے کا کہنا ہے کہ جونکوں سے علاج کے بارے میں مغربی دنیا میں بھی ایک نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ غریب لوگوں کے لیے سستا علاج ہے لیکن اس بات کی کوئی امید نہيں دکھائی دیتی کہ ’آنے والے دنوں میں اس کا استعمال ایلوپیتھی ہسپتالوں میں ہونے لگے۔ نئی تحقیقات ہو رہی ہيں لیکن اب تک اس کے استعمال کے حق میں مضوط دلائل نہیں آ سکے‘۔ لیکن حکیم صاحب پھر بھی پُر امید ہيں۔ |
اسی بارے میں مینڈک سے شوگر کا علاج ممکن03 March, 2008 | نیٹ سائنس ناسور کا علاج پانی سے24 May, 2007 | نیٹ سائنس کیموتھریپی جین پر خدشے کا اظہار19 May, 2007 | نیٹ سائنس چائے یاداشت بڑھائے27 October, 2004 | نیٹ سائنس صحت کی ویب سائٹس کے خطرات18 October, 2004 | نیٹ سائنس خوابوں کا پتہ مل گیا11 September, 2004 | نیٹ سائنس سُست بندروں، انسانوں کا علاج12 August, 2004 | نیٹ سائنس کلوننگ پر تحقیق کی اجازت11 August, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||