مینڈک سے شوگر کا علاج ممکن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کے مطابق جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے ایک مینڈک کی کھال سے رِسنے والے مواد سے شوگر کی ٹائپ ٹو کا علاج ممکن ہے۔ یہ مینڈک اپنی ابتدائی عمر میں ستائیس سنٹی میٹر تک طویل ہوتا ہے اور بالغ ہوتے ہی چھوٹا ہو کر چار سنٹی میٹر کا رہ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مینڈک سے حاصل ہونے والا مواد انسولین پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس، برطانیہ نامی تنظیم کی سالانہ کانفرنس میں بتایا گیا کہ مینڈک سے حاصل ہونے والے مواد سے نئی ادویات بن سکتی ہیں۔ برطانیہ میں تقریباً بیس لاکھ لوگ ذیابیطس کی ٹائپ ٹو کا شکار ہیں۔ اس بیماری کی وجہ جسم میں ضروری مقدار میں انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہونا یا انسولین کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ اس بیماری کا عام طور پر موٹاپے سے بھی تعلق جوڑا جاتا ہے۔ ذیابیطس برطانیہ کے چیف ایگزیکیٹو ڈگلس سمالوُڈ نے کہا کہ ٹائپ ٹو پر مناسب خوراک اور ورزش سے قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اسے مکمل طور پر کنٹرول میں لانے کے لیے ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ایشیا میں ذیابیطس کا شدید خطرہ23 February, 2006 | نیٹ سائنس چینی جڑی بوٹی سے شوگر کا علاج13 August, 2006 | نیٹ سائنس انسولین کی گولی، ایک نئی امید 22 June, 2007 | نیٹ سائنس ’دودھ پینے سے شوگر کا خطرہ کم‘15 July, 2007 | نیٹ سائنس ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق18 July, 2005 | نیٹ سائنس ذیابیطس:مکمل علاج کی امید28 November, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||