’دودھ پینے سے شوگر کا خطرہ کم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روزانہ ایک گلاس دودھ پینے سے مردوں میں شوگر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ایک تحقیق میں پتہ چلی ہے۔ دودھ کی بنی اشیاء کو کھانے سے’میٹوبولک سنڈروم‘ کم ہوجاتا ہے۔ میٹابولک سنڈروم ایک ساتھ کئی علامات ہیں جن کے ذریعے بیماری بڑھنے کا خدشہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ جرنل آف ایپیڈیمیولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کے میٹوبولک سنڈروم مرنے کے خطرے کو پچاس فیصد بڑھا دیتا ہے اور لوگوں کو دودھ سے بنی اشیاء کو روزانہ کھانے کی صلاح دی گئی ہے۔ یونورسٹی آف کارڈف کی ایک تحقیق میں حصہ لینے والے 2375 میٹابولک سنڈروم والے مردوں کو دو یہ دو سے زیادہ بیماریوں، جیسے زیادہ بلڈ پریشر، بلڈ گلوکوز، انسیولن اور خون میں چربی جیسے خطرے موجود ہیں۔ بیس برس پر پھیلی ہوئی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں میں میٹوبولک سنڈروم موجود ہے ان کو دل کی بیماریوں کا خطرہ دگنا اور شوگر ہونے کا خطرہ چار گنا زیادہ ہو جاتا ہے مگر وہ لوگ جو روز ایک گلاس یا ایک گلاس سے زیادہ دودھ پیتے ہیں ان کو 62 فیصد کم خطرہ ہے اور جو دودھ کی بنی اشیاء پابندی سے کھاتے ہیں ان کو 56 فیصد کم خطرہ ہے۔ پروفیسر پیٹر ایلوڈ نے کہا کہ برطانیہ میں پچھلے پچاس سال میں اس کی روز مرہ خوراک کی خصوصیت کے باوجود دودھ کی خریداری کم ہوگئی ہے تاہم حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیاء لوگوں کی خوراک کا اہم حصہ ہیں۔ برطانوی ادارے ڈائبیٹیز یو کے کی جیما ایڈورڈز کا مشورہ ہے کہ دودھ اور اس سے بنی ہوئ اشیاء کم مقدار میں استعمال کرنی چائیں تاکہ شوگر (ٹائپ 2) سے بچا جا سکے۔ اور اس بات پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ ورزش اور متوازن خوراک کا خیال رکھا جاۓ۔ |
اسی بارے میں چینی جڑی بوٹی سے شوگر کا علاج13 August, 2006 | نیٹ سائنس شوگر کےمریضوں کیلیئے امید24 September, 2006 | نیٹ سائنس ہڈی کے گودے سے شوگر کا علاج12 November, 2006 | نیٹ سائنس ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق18 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||