ڈیمی مور: خون چسوانے کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور اداکارہ ڈیمی مور نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جونکوں کے ذریعے خون چسوانے کا طریقۂ کار استعمال کر چکی ہیں۔ پینتالیس سالہ امریکی اداکارہ نے ایک ٹاک شو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے خون سے زہریلے مادوں کے اخراج کے لیے جونکوں سے خون چسوایا ہے۔ انہوں نے ڈیوڈ لیٹرمین کے شو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ علاج آسٹریا میں کرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کا خون چوس رہی ہیں اور پھول رہی ہیں اور جب ان میں مزید خون پینے کی سکت نہیں رہتی تو وہ ایسے نیچے لڑھک جاتی ہیں جیسے کوئی مدہوش شرابی شراب خانے سے باہر نکل رہا ہو۔ جونکوں سے علاج کا یہ طریقۂ کار صدیوں سے استعمال کیا جاتا ہے اور اب بھی کئی ملکوں اس طریقے کا استعمال جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نسوں میں خون کے لوتھڑوں کو ختم کرنے کے لیے کا آمد ثابت ہوتی ہیں انہیں جہاں جہاں لوتھڑے ہوتے ہیں وہاں وہاں لگا دیا جاتا ہے اور وہ خون چوس کر نسوں نیں خون کی روانی کو بحال کر دیتی ہیں۔ لیکن ڈیمین مور کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ علاج خون سے زیریلے مادوں کے اخراج کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ آپ خون میں سے زہریلے پن کو نچوڑ لیتی ہیں۔ عام طور ان کے الگ ہونے کے بعد آپ کا تھوڑا سا خون بہتا ہے لیکن آپ صہت مند ہو جاتے ہیں اور میں خود کو بہت صحت مند محسوس کرتی ہوں‘۔’
انہوں نے بتایا کے انہوں نے یہ علاج ایک خاتون کے گھر پر اس کے بستر پر لیٹ کر کرایا۔ ’پہلی بار نمونے کے طور پر ایک جونک میری ناف کے اوپر ٹنڈی پر لگائی گئی‘۔ ’پہلے تو وہ تھوڑا سا چلی اور پھر اس مجھے کاٹا۔ پہلے تھوڑا سا عجیب لگا لیکن پھر سکون ہو گیا‘۔ انہوں نے مذاق کے طور پر کہا ’لیکن یہ عام جونکیں نہیں ہوتیں یہ طبی طور پر تربیت یافتہ جونکیں ہوتی ہیں‘۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اس طریقۂ علاج کو مفید سمجھتی ہیں اور مزید اس علاج کا ارادہ رکھتی ہیں۔ لیکن نائین ویلز میں پلاسٹک سرجری کے مشیر اینڈریو ویلمشرٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اس یقین نہیں کہ جونکیں جسم کو زہریلہ مادوں سے پاک کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا برطانیہ میں جونکوں کو پلسٹک سرجری کے شعبے میں علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن دو انتہایی مخصوص مقاصد کے لیے۔ |
اسی بارے میں فرانسیسی اداکارہ بانڈ کی نئی ہیروئن18 February, 2006 | فن فنکار ڈیکیپریو کو بہترین اداکار کا ایوارڈ17 January, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||