آکوپنکچرمؤثرطریقۂ علاج ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حاملہ خواتین کو ہونے والے ایک مخصوص درد کے علاج میں آکو پنکچر طریقۂ علاج موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ حاملہ خواتین میں اس درد کی شکایت عام ہے اور عموماً ہر تیسری حاملہ خاتون اس درد کا شکار ہوتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آکوپنکچر روایتی طریقۂ علاج کے مقابلے میں بھی زیادہ مؤثر ہے۔ گوتھن برک انسٹیٹیوٹ برائے زچہ بچہ کی ایک ٹیم نے اس موضوع پر تحقیق کی اور ان کہنا ہے کہ شعبۂ طب کو آکوپنکچر کو کھلے ذہن سے قبول کرنا چاہیے۔ اس تحقیق کو ایک رپورٹ میں شائع کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کی مصنفہ ہیلن ایلڈن کا کہنا تھا کہ ’ اس تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ آکوپنکچر روایتی فزیو تھراپی کے مقابلے میں اس مخصوص درد کو کم کرنے میں زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے‘۔ اس تحقیق کے دوران 386 حاملہ خواتین کو 3 گروپوں میں تقسیم کرنے کے بعد ان پر مختلف طریقۂ علاج استعمال کیے گئے۔ پہلے گروہ کو عام ورزش کروائی گئی۔ دوسرے گروہ پر آکوپنکچر کا استعمال کیا گیا جبکہ تیسرے گروہ کو قوت فراہم کرنے والی مخصوص ورزشیں کروائی گئیں۔ چھ ہفتے بعد لیے جانے والے نتائج میں سب سے زیادہ بہتری آکوپنکچر والے گروہ میں دیکھنے میں آئی جبکہ مخصوص ورزشیں کرنے والا گروہ دوسرے درجے پر رہا۔ برٹش آکوپنکچر کونسل کے رکن ڈینیئل میکسول کا کہنا ہے کہ ’ حاملہ خواتین کے لیے آکوپنکچر طریقۂ علاج کی افادیت ڈھکی چھپی نہیں ہے اور بہت سی حاملہ خواتین درد کے علاج کے لیے آکوپنکعر کا استعمال کرتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||