| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سو فیصد مانع حمل
عورتوں کے لئے مانع حمل ادویات پر تحقیق اور ان کی تیاری شاید اس وقت سے جاری ہے جب سے انسانیت میں یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ آبادی میں اضافے سے بے پناہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ لیکن اب سائسن دانوں نے ایک ایسی دوا تیار کر لی ہے جو مردوں کے لئے ہے۔ جی ہاں! اس دوا کے استعمال سے مردوں میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ارادی طور پر قابو میں لائی جا سکتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نئی دوا کے جو تجربات کیے ہیں ان سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دوا سو فیصد مؤثر ہے۔اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔ اس علاج میں جلد کے نچلے حصے کو تو استعمال میں لایا جاتا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ جلد کے اوپر کے حصے سے بھی کام لیا جاتا ہے یعنی ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ لہذٰا مردوں کو یہ بات یاد رکھنے سے نجات مل جاتی ہے کہ انہیں مانع حمل گولی کھانی ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں انذیک ریسرچ انسٹیٹوٹ کے ماہرین نے نمونے کے طور پر ایک سال کے دوران پچپن مردوں پر یہ طریقہ آزمایا۔ نتیجہ یہ تھا کہ ان مردوں کی ساتھی خواتین میں سے کوئی بھی حاملہ نہیں ہوئی۔ عام مردوں کو یہ علاج دستیاب ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ دو مختلف طریقوں سے ہونے والے اس علاج میں دوا کے ذریعے مردوں میں جنسی ہیجان کا سبب بننے والے ہارمون ٹیسٹرون کو ہر چار ماہ بعد تبدیل کر دیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ ہر تین ماہ بعد ایک ٹیکہ بھی لگایا جاتا ہے جس میں مانعِ حمل گولیوں کے وہ اجزا شامل ہوتے ہیں جو عورت کے غدودوں پر اثر کرتے ہیں۔اس علاج میں جسم کے قدرتی نظام سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔
لیکن اس دوا سے مرد کے غدود ٹیسٹرون کا عمل بھی رک جاتا ہے لہذٰا اسے صحت مند رکھنے اور اس کی جنسی خواہش بحال رکھنے کے لئے اسے اضافی خوراک دینی پڑتی ہے۔ تجربات میں شریک جوڑوں نے اس علاج کے دوران امتناعِ حمل کے لئے کوئی اور دوا استعمال نہیں کی۔ اور تجربات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ اس دوا کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔ جب یہ علاج روک دیا گیا تو تجربات میں شریک جوڑوں میں چند ماہ کے اندر اندر بچہ پیدا کرنے کی فطری صلاحیت لوٹ آئی۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ ہینڈلسمین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جوڑوں نے ان تجربات میں شرکت کی جن میں صرف مردوں کے لئے ایک قابلِ بھروسہ مانعِ حمل علاج سے بچہ پیدا کرنے والے جرثومے غیر متحرک کیے گئے۔ ’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسا علاج سامنے آجائے گا جس میں مرد کو لگائے جانے والے ٹیکے کے ذریعے غدودوں پر اثر کرکے عورتوں میں حمل کو روکا جا سکے گا اور یہ علاج تین چار ماہ پر محیط ہوگا جس میں جنسی صلاحتیں بھی متاثر نہیں ہوں گی اور اشتہا بھی قائم رہے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ دوا تیار کرنے والی کمپنیوں پر ہے کہ وہ اس علاج کو عام لوگوں کے لئے قابلِ استعمال بنانے کے لئے تحقیق کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دوا کے زیادہ اور طویل المعیاد تجربات بھی ضروری ہیں۔ ماضی میں مردوں کے لئے کسی بھی اسی دوا کی تیاری کی راہ میں کئی رکاوٹیں آئیں ہیں۔ یا ان میں مضرِ صحت اثرات زیادہ تھے یا وہ قابلِ اعتماد ثابت نہیں ہوئیں یا پھر انہوں نے مرد کی اشتہا متاثر کر دی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||