سُست بندروں، انسانوں کا علاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سائنسدانوں نے جین تھراپی کے ذریعے سست بندروں کو چست بنانے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔ عام طور پر بندر صرف صِلے کے لالچ میں کام کرتے ہیں لیکن تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ نئی تکنیک کے استعمال سے بندر ہمہ وقت پوری تندہی سے کام کرتے ہیں۔ بندروں کا یا کم از کم تجربات میں شامل بندروں کا کام کے بارے میں انسانوں جیسا رویہ تھا جو خوراک اور پانی کے لیے متعلقہ بٹن دبانا سیکھ گئے تھے۔ واشنگٹن ڈی سی میں دماغی صحت کے قومی ادارے نیشنل انسٹٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں ماہرین ایک ایسی تکنیک دریافت کی ہے جس کے ذریعے بندروں کا کام کے بارے میں رویہ بڑی حد تک تبدیل ہو جائے گا۔ ماہرین کی ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈاکر بیری رچمنڈ کا کہنا ہے کہ انسان اور بندر دونوں ہی اگر ان کے پاس وقت ہو تو کام مؤخر کر دیتے ہیں اور اس وقت بہتر کام کرتے ہیں جب صلہ جلدی ملنے کی امید ہو یا اس کا وقت قریب ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئی تکنیک میں دماغ کے ایک اہم کیمیائی مادے ڈوپامین کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دیکھا گیا کہ بندر کام میں تاخیر نہیں کرتے۔ اس علاج کا اثر دس ہفتے تک قائم رہتا ہے جس کے بعد بندروں میں سستی کا رجحان واپس لوٹ آیا۔ ڈاکٹر رچمنڈ کے مطابق مستبقل میں اس تکنیک کے ذریعے ڈپریشن جیسے مسائل کا شکار لوگوں کی مدد کی جا سکے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب یہ تکنیک ان کے باس کے اختیار میں آجائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||