BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 August, 2004, 08:58 GMT 13:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سُست بندروں، انسانوں کا علاج
بندر
امریکہ میں سائنسدانوں نے جین تھراپی کے ذریعے سست بندروں کو چست بنانے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔

عام طور پر بندر صرف صِلے کے لالچ میں کام کرتے ہیں لیکن تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ نئی تکنیک کے استعمال سے بندر ہمہ وقت پوری تندہی سے کام کرتے ہیں۔

بندروں کا یا کم از کم تجربات میں شامل بندروں کا کام کے بارے میں انسانوں جیسا رویہ تھا جو خوراک اور پانی کے لیے متعلقہ بٹن دبانا سیکھ گئے تھے۔

واشنگٹن ڈی سی میں دماغی صحت کے قومی ادارے نیشنل انسٹٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں ماہرین ایک ایسی تکنیک دریافت کی ہے جس کے ذریعے بندروں کا کام کے بارے میں رویہ بڑی حد تک تبدیل ہو جائے گا۔

ماہرین کی ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈاکر بیری رچمنڈ کا کہنا ہے کہ انسان اور بندر دونوں ہی اگر ان کے پاس وقت ہو تو کام مؤخر کر دیتے ہیں اور اس وقت بہتر کام کرتے ہیں جب صلہ جلدی ملنے کی امید ہو یا اس کا وقت قریب ہو۔

انہوں نے کہا کہ نئی تکنیک میں دماغ کے ایک اہم کیمیائی مادے ڈوپامین کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دیکھا گیا کہ بندر کام میں تاخیر نہیں کرتے۔ اس علاج کا اثر دس ہفتے تک قائم رہتا ہے جس کے بعد بندروں میں سستی کا رجحان واپس لوٹ آیا۔

ڈاکٹر رچمنڈ کے مطابق مستبقل میں اس تکنیک کے ذریعے ڈپریشن جیسے مسائل کا شکار لوگوں کی مدد کی جا سکے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب یہ تکنیک ان کے باس کے اختیار میں آجائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد