بن باپ کی چوہیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنس دانوں نے ایک چوہیا کے انڈوں کو دوسری چوہیا کے انڈے سے اس طرح ملایا کہ محض مادہ جینز کے ذریعے ہی تولیدی مواد کی افزائش ہو سکے۔ اس سے ملتا جلتا افزائشِ نسل کا ایک نظام فطری طور پر کیڑوں مکوڑوں اور رینگنے والے جانوروں میں موجود ہوتا ہے لیکن دودھ دینے والے جانوروں میں نسل کی افزائش نر اور مادہ کے ملاپ کے بغیر عام حالات میں ممکن نہیں ہوتی۔ نوزائدہ بچے میں نر اور مادہ دونوں کی جینز ہوتی ہیں ۔ لیکن اب جاپان اور کوریا کے ماہرینِ جینیات نے ایک کامیاب تجربے کے ذریعے نظامِ فطرت سے ماورہ ایک ایسا چوہا پیدا کر لیا ہے جس کا وجود باپ کے نطفے کا محتاج نہیں ہے ۔ اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئےماہرین نے بتایا ہے کہ انہوں نے دو چوہوں کے انڈوں کو لیکر ان کے ڈی این اے کو قابلِ افزائش انداز میں ملانے کی کوشش کی اور سینکڑوں بار کی ناکامی کے بعد آخر کار تیر نشانے پر بیٹھا اور جنیاتی طور پر تبدیل شدہ دو چوہوں کا مادۂ تولید حیاتِ نو کو جنم دینے میں کامیاب ہو گیا۔ ناقدین کا دھیان اگرچہ فوری طور پر اس گمبھیر امکان کی سمت جا رہا ہے کہ مستقبل میں صرف دو عورتوں کی مدد سے ایک انسانی بچہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت کو دماغ اور اعصابی نظام کی کچھ لاعلاج بیماریوں کی دوا تیار کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے ابھی یہ تجربہ انسانوں پر کام نہیں کرےگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||