خوابوں کا پتہ مل گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کے مطابق دماغ کے اس حصے کا پتہ لگا ہے جہاں خواب جنم لیتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے زیورچ ہاسپٹل کی ٹیم نے ایک ایسی خاتون کے علاج کے بعد یہ بات دریافت کی ہے۔ اس خاتون کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد خواب آنا بند ہو گئے تھے۔ دل کا دورہ پڑنے کے سبب اس خاتون کے دماغ کے پیچھے کا اندرونی حصہ بری طرح متاثر ہو گیا تھا جس سے سائنسدانوں نے یہ اخذ کیا کہ انسانی خواب اسی جگہ پیدا ہوتے ہیں۔ اس خاتون کی عمر تہتر برس ہے اور دل کے دورے کے باعث ان کے دماغ نے بہت سے کام کرنے بند کر دیئے تھے جن میں بیشتر کا تعلق بینائی سے تھا۔ تاہم چند روز کے بعد دماغ کے زیادہ تر حصوں نے دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا مگر انہیں خواب آنا بند ہو گئے۔ اس عورت نے سائنسدانوں کی ٹیم کو بتایا کہ دل کا دورہ پڑنے سے قبل وہ ہفتے میں تین سے چار مرتبہ خواب دیکھتی تھیں۔ دماغ کے اس مخصوص حصے کے متاثر ہونے کی وجہ سے خواب نہ دیکھ پانے کی کیفیت کو شارکوٹ ولبرانڈ سنڈروم کہا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||