BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2008, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ہلاکتوں پر ہر جگہ ماتم

شیخ عبدالعزیز کے ابائي قبصہ ميں تعزیتی اجتماع
تعزیتی اجتماع کی کال علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے مشترکہ طور پر دی تھی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گیارہ اگست کو شروع کی گئی ’مظفرآباد چلو‘ تحریک کے چھٹے روز سنیچر کو اس تحریک کے دوران فوج اور نیم فوجی عملے کی فائرنگ میں ہلاک ہونےوالے کشمیریوں کے حق میں جگہ جگہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔

اس حوالے سے سب سے بڑا اجتماع جنوبی کشمیر کے پانپور قصبہ میں ہوا ، جہاں گیارہ اگست کو مظفرآباد مارچ کے دوران مارے گیے سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنما شیخ عبدالعزیز کے گھر پر لاکھوں لوگوں نے تعزیتی مجلس میں حصہ لیا۔

اس اجتماع کی کال علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے مشترکہ طور پر دی تھی۔

شیخ عبدالعزیز کے آبائی قصبہ پانپور میں قریب دو لاکھ لوگوں کے اجتماع سے سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ ، میرواعظ عمر، نعیم احمد خان اور محمد یٰسین ملک نے خطاب کیا۔ ان رہنماؤں نے مظفرآباد روڑ کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔

ان رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پیر یعنی اٹھارہ اگست کو وادی کے تمام قصبوں اور دیہات سے سرینگر آئیں اور یہاں مقیم اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو ایک یاداشت پیش کریں۔

پچھلے اُنیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ لوگوں کا ایک اژدہام اُمڈ آیا اور ہر طبقہ سے وابستہ افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ سیاہ اور سبز ہلالی پرچم تھامے قافلوں کے ساتھ پانپور کی طرف رواں دواں تھے۔

 جب تک مظفرآباد روڑ بحال نہیں ہوتا، ریاست سے مکمل فوجی انخلا نہییں ہوتا، کالے قوانیں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور تمام کشمیری قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا ، تب ہماری جدوجہد اور احتجاج جاری رہے گا
میر واعظ عمر فاروق، حریت لیڈر

پچھلے چند روز کے دوران پولیس اور سی آر پی ایف کے خلاف انتہائی غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے، صوبے کے پولیس سربراہ کلدیپ کمار کُھڈا نے جمعہ کے روز ہی ایک بیان میں اعلان کی تھا ’اگر مظاہرین پرامن رہینگے تو انہیں روکا نہیں جائے گا۔‘

پانپور جارہے قافلوں میں لوگ مرثیہ خواں تھے، اور ’السلام السلام ، اے شہیدو السلام‘ کے نعروں سے پوری فضا گونج رہی تھی۔ لوگ ، اسلام، آزادی اور پاکستان کے حق میں بھی نعرے بلند کررہے تھے۔

خواتین مخصوص کشمیری انداز میں ماتم کررہی تھیں اور ’ہا میانہ شہدو ولا گور کرایو (اے میرے شہید آجا تجھے سینے سے لگادوں‘۔

سرینگر سے پانپور تک کے دس کلومیٹر فاصلے پر جگہ جگہ خواتین نے مشروبات اور دیگر اشیائے خوردنی کے اسٹال لگائے تھے جن سے مظاہرین مستفید ہورہے تھے۔

پانپور کے تعزیتی اجتماع سے خطاب کے دوران میرواعظ عمر فاروق نے حالات کی بحالی کے لیے حکومت ہند کو چار نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے’جب تک مظفرآباد روڑ بحال نہیں ہوتا، ریاست سے مکمل فوجی انخلا نہیں ہوتا، کالے قوانیں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور تمام کشمیری قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا ، تب ہماری جدوجہد اور احتجاج جاری رہے گا۔‘

سید علی گیلانی، یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ اور نعیم خان نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے پہلے ہی ’مظفرآباد چلو‘ کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے، اور احتجاجی تحریک سے متعلق یہی کمیٹی لائحہ عمل طے کرے گی۔

مظفرآباد چلو مارچ کے دوران شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت کے بعد ان کے آبائی قصبہ پانپور میں تقریبا دو لاکھ افراد تعزیتی جلسے میں پہنچے

گیلانی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، مفتی محمد سعید ، محبوبہ مفتی اور دیگر ہندنواز سیاسی رہنماؤں کو دعوت دی کہ وہ ’ہندنواز سیاست سے کنارہ کش ہوکر اس تحریک کا حصہ بنیں کیونکہ وہ اسی مٹی کی پیدوار ہیں جس کے لیے یہاں کے نوجوان اپنا گرم لہو نچھاور کررہے ہیں۔‘

واضح رہے شیخ عبدالعزیز گیارہ اگست کو مظفرآباد مارچ کے دوران بارہمولہ کے ژہل گاؤں میں کنٹرول لائن سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر فوج کی فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔

ان کی ہلاکت کے بعد وادی میں کشیدگی بڑھ گئی اور پولیس و سی آر پی ایف کی انسدادی کاروائیوں میں ہلاک ہونے والوں سے متعلق جو فہرست مقامی اخبارات نے شائع کی ہے اس کے مطابق اب تک کم از کم 32 افراد مارے گئے ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر ابھی تک ہلاکتوں کے بارے میں کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا ہلاک ہونیوالے نوجوانوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ کا عمل جاری ہے اور تقریباً ہر محلے اور ہر بستی میں مقامی اوقاف اسلامیہ ان جنازوں کا اہتمام کررہی ہے۔ سرینگر کے بٹہ مالو علاقہ میں سابق عسکریت پسند رہنما مشتاق الاسلام اور علیٰحدگی پسند رہنما شکیل بخشی نے بھی ایسے ہی جنازے کا اہمتام کیا۔

کشمیر میں سبز پرچم
کشمیر میں پاکستانی عدم مخالفت خوش آئند قدم
سرینگر میں مظاہرےکشمیرسراپااحتجاج
کشمیر میں مظاہرے، غم و غصہ
بھارتی فوجیفوج کی چڑھائی
سری نگر میں صرف دو دن میں بیس افراد ہلاک
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
شیخ عبدالعزیزشیخ عبدالعزیز
’تحریک آزادیِ کشمیر کا نیا شہید‘
خاک اور خون
کشمیر: مظاہرے اور ہلاکتیں، تصاویر میں
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد