پندرہ اگست کشمیر میں یوم سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف گیارہ اگست سے جاری ’مظفرآباد چلو‘ تحریک کے نتیجے میں ہندوستان کے باسٹھویں یوم آزادی کے جشن کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ اس تقریب کا نہ صرف لوگوں اور سکول کے بچوں نے مکمل بائیکاٹ کیا بلکہ ہند نواز گروپوں کی صف اول کی قیادت بھی تقریب میں موجود نہیں تھی۔ بائیکاٹ کی کال علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے مشترکہ طور پر دی تھی۔ پچھلے دس سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ہندوستان کے یوم آزادی کی تقریب کا لوگوں نے سو فی صد بائیکاٹ کیاہے۔ صوبے میں دوہزار دو کے انتخابات کے بعد ہندوستانی یوم آزادی کو ’ثقافتی رنگ‘ دینے کے لیے حکومت نے ایک غیر اعلانیہ پالیسی کے تحت سکول کے بچوں کو اس تقریب کا حصہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کے نام حکم نامہ جاری کرتا تھا۔ اسی حکم نامہ کے تحت سکولوں کے منتظمین ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے لئے اپنے اپنے سکولوں کے لڑکے اور لڑکیوں کو سرینگر کے بخشی سٹیڈیم روانہ کرتے تھے۔ کشمیر کے ڈویژنل کمشنر مقامی ملازمین کو بھی بخشی سٹیڈیم میں حاضری کا پابند بنانے کے لئے باقاعدہ حکم نامہ جاری کرتے تھے۔
وادی میں’مظفرآباد چلو‘ تحریک کے حوالے سے جو تشدد برپا ہوا اس کے نتیجہ میں پہلے ہی متعدد اضلاع میں کرفیو کا نفاذ تھا مگر سرینگر میں کرفیو میں نرمی برتی گئی۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں نے اپنے گھروں اور اپنی گاڑیوں پر سیاہ پرچم لہرائے تھے اور علیٰحدگی پسندوں کی کال پر مکمل ہڑتال رہی۔ آج کی تقریب سے صوبائی گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے مختصر خطاب کیا اورکسی گروپ یا رہنما کا نام لیے بغیر کہا : ’جو اس احتجاجی تحریک کا اہتمام کررہے ہیں میری ان سے گزارش ہے کہ اگر وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو میں پرامن مذاکرات کے ذریعہ ان کی شکایات سننے کے لئے تیار ہوں۔‘ گورنر کی تقریر کے بعد جموں کشمیر پولیس اور فوج کی ایک یونٹ نے پریڈ پر گورنر کو سلامی پیش کی اور فوجی اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر کچھ کرتب دکھائے۔ تقریب میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے سرپرست اور سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ اور مفتی محمد سعید موجود نہیں تھے، گو کہ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما عبدالرحیم راتھر نے تقریب میں شرکت کی۔ پولیس ترجمان شیخ فیصل کے مطابق پندرہ اگست کی مناسبت سے وادی کے تمام اضلاع سے کرفیو ہٹالیاگیا ہے۔ لیکن حالیہ ہلاکتوں کے خلاف عوام میں موجود غم و غصہ کی وجہ سے بارہمولہ ، پلوامہ، اسلام آباد اور کپوارہ میں بھی پندرہ اگست کے موقع پر تقاریب مختصر اور عوامی شرکت کے بغیر منعقد ہوئیں۔ واضح رہے کہ 23 جون سے یکم جولائی تک زمین کی واپسی کے لیے احتجاجی تحریک چلانے کے بعد گیارہ اگست سے ’مظفرآباد چلو‘ کے نام سے ایک اور تحریک چل رہی ہے، جس میں اب تک بیس سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں یومِ آزادی پر سکیورٹی الرٹ15 August, 2008 | انڈیا کشمیر بھر میں کرفیو اور جنازے13 August, 2008 | انڈیا کشمیر: چار اضلاع میں اب بھی کرفیو 14 August, 2008 | انڈیا کشمیر: رات گئے سرینگر میں تناؤ 13 August, 2008 | انڈیا 13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری12 August, 2008 | انڈیا کشمیر: پاکستان عدم مداخلت خوش آئند15 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||