یومِ آزادی پر سکیورٹی الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے باسٹھویں یومِ آزادی کے موقع پر پورے ملک میں لاکھوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران ہونے والے بم دھماکوں اور جموں اور کشمیر میں گزشتہ چند روز سے جاری مظاہروں میں بیس سے زائد افراد کی ہلاکت کے مدنظر پورے ملک میں سکیورٹی الرٹ ہے۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتوں نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو کشمیری علیحدگی پسند ایک عام ہڑتال کریں گے اور یومِ سیاہ منائیں گے۔ دہلی کے تمام علاقوں میں دسیوں ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ خصوصی طور پر دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے اطراف میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم منموہن سنگھ لال قلعہ سے پانچویں بار قوم سے خطاب کریں گے۔ لال قلعہ کے قریب واقع تمام اونچی عمارتوں پر سکیورٹی کے اہلکار تعینات ہیں۔ گزشتہ ماہ بنگلور اور احمدآباد میں بم دھماکوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور حال ہی قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے کہا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ملک میں آٹھ سو شدت پسند یونِٹوں کا پتہ لگایا ہے۔ | اسی بارے میں 13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری12 August, 2008 | انڈیا کشمیر: چار اضلاع میں اب بھی کرفیو 14 August, 2008 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا کشمیر: برف پگھل گئی، تشدد شروع25 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||