کشمیر: چار اضلاع میں اب بھی کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے چار اضلاع میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے جبکہ سرینگر سے کرفیو اٹھا لیا گيا ہے۔ بارہ مولہ، باندی پورہ، پلوامہ اور شوپیان میں ابھی تک کرفیو میں نرمی نہیں کی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پرگولی چلانے کے خلاف لوگوں میں زبردست غم وغصہ ہے اور وادی میں حالات اب بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ اس دوران کشمیر کے علیحدگی پسند حریت رہنماؤں نے امن کی اپیل کی ہے۔ گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے تقریبا دو درجن افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ پلوامہ میں بعض لوگوں نے مرکزی ریزرو پولیس کے ایک افسر پر پتھر پھینکے تھے جس کے بعد مزید پولیس وہاں پہنچ گئی اور انہوں نے لوگوں کے گھروں میں گھس کر زد و کوب اور تشدد کیا۔ اس کے جواب میں ہزاروں لوگوں نے جلوس نکالا جس پر پولیس نے فائرنگ کی۔ الطاف حسین کا کہنا ہے کہ درمیانی شب سرینگر میں بالکل وہی ماحول تھا جیسا کہ انیس سو نوّے میں ہوا کرتا تھا۔’ لوگ گھروں سے باہر آ کر مسجدوں میں اور سڑکوں پر جمع ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی کیونکہ کئی مقامات سے پولیس کے لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کی خبریں آئی تھیں۔‘
اطلاعات کے مطابق رات کو شروع ہوئے مظاہرے صبح چار بجے تک جاری رہے اور فجر کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تازہ مظاہرے سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک بیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جموں شاہراہ پر ہندو بلوائیوں کی ناکہ بندی کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں تین دن میں انیس افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف وادی میں گزشتہ دو روز میں چوبیس افراد مارے گئے ہیں۔ گزشتہ تیرہ برس میں یہ پہلا موقع تھا کہ کشمیر کے سبھی اضلاع میں ایک ساتھ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم سرینگر اور باڑگام میں بدھ کی صبح آٹھ بجے سے گيارہ بجے کے درمیان کرفیو میں نرمی دی گئی تھی۔
اس دوران سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال اور شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایمرجنسی شعبوں سے وابستہ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ہسپتالوں میں جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے باعث ضروری ادویات اور طبی ساز و سامان کا فقدان ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کی نگہداشت میں مشکلات درپیش ہیں۔ تاہم محکمہ داخلہ کے نگران حاکم انِل گوسوامی نے بتایا ’نیشنل ہائی وے پر کوئی بلاکیڈ (ناکہ بندی) نہیں ہے، اور مال بردار گاڑیاں برابر وادی آرہی ہیں اور یہاں سے جموں جا رہی ہیں‘۔ واضح رہے کشمیری میوہ کاشتکاروں اور میوہ صنعت سے جُڑے تاجروں نے گیارہ اگست کو جموں میں ہندو شدت پسند گروپوں کی طرف سے جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے خلاف مظفرآباد روڈ کھولنے کے لیے ایک عوامی تحریک چھیڑدی جس کے دوران علیٰحدگی پسندوں اوردیگر عوامی حلقوں کی حمایت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن کے اُس مقام کی طرف مارچ کرنے لگے جہاں سے مظفرآباد کی طرف راستہ جاتا ہے۔ ’مظفرآباد چلو‘ عنوان سے چلائی جارہی اس تحریک کے پہلے روز یعنی سوموار کو چھ مقامات پر فوج اور پولیس نے عوامی قافلے روکنے کی کوشش کی جس دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے اور پولیس و فوج کی فائرنگ سے حریت رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت سے پوری وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی خطوں میں تناؤ پیدا ہوگیا اور منگل کو انتظامیہ نے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا، لیکن ہزاروں افراد نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگر کی جامع مسجد میں شیخ عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ |
اسی بارے میں 13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری12 August, 2008 | انڈیا شیخ عزیز ہلاک، سرینگر میں کرفیو 11 August, 2008 | انڈیا مظفرآبادمارچ: دو ہلاک، ستّر زخمی 11 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ کا حل نکل آئے گا: پاٹل10 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ: سری نگر میں مذاکرات10 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: تعطل ختم، مذاکرات 09 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: مذاکراتی ٹیم کی تشکیل07 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||