BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 July, 2008, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے
اخبارات
اخبارات کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب حملہ آوروں نے اسپتال کو نشانہ بنایا ہے

ہندوستان کے صوبے گجرات کے شہر احمد آباد میں سنیچر کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کی خبر سبھی اخبارات میں نمایا طور پر شائع کی گئی ہیں۔

ان دھماکوں میں پینتالیس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہيں۔

اخبارات میں دھماکوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ہلاک شدگان کی تعداد میں بھی فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن سبھی اخبارات نے بنگلور دھماکوں کے صرف ایک دن بعد ہوئے سلسلہ وار دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور تقریبا سبھی اخبارات نے لکھا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب اسپتال پر بھی حملے ہوئے ہيں۔

انگریزی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ نے سرخی لگائی ہے۔ ’ٹیرر آفٹر ٹیرر‘ یعنی دہشت کے بعد دہشت۔ اخبار نے دوسری لائن میں لکھا ہے۔ ستر منٹ میں سترہ دھماکے، 29 اموات اور سو سے زیادہ زخمی۔ بنگلور دھماکے کے دوسرے دن۔

سبھی اخبارات نے بنگلور دھماکوں کے ٹھیک ایک دن بعد ہوئے سلسلہ وار دھماکوں پر تشویش اظہار کیا ہے۔ اور تقریبا سبھی اخبارات نے لکھا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب اسپتال پر بھی بم حملے ہوئے ہيں

اخبار نے دھماکوں کے ساتھ بعض میڈیا ہاؤسز کو ملے ای میل کی خبر کو بھی ترجیح دی ہے جس میں ممبئی کے اسٹاک ایکسچینج کو اڑانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

روزنامہ’ ٹائمز آف انڈیا‘نے سرخی لگائی ہے۔’ بنگلور۔ احمدآباد۔ اگلا نشانہ کون؟ ‘ اخبار نے لکھا ہے کہ انڈین مجاہدین نامی ایک شدت پسند تنظیم نے احمدآباد دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ اخبار کے مطابق سولہ دھماکوں ميں سے چار ریاست گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے اسمبلی حلقے منی نگر میں ہوئے ہيں۔

روزنامہ ’پائنیر‘ نے احمدآباد دھماکوں پر سرخی لگائی ہے۔’ دو شہر دو دن، چوبیس دھماکے۔‘ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ دھماکے کم شدت کے تھے لیکن مقاصد بہت سنگین تھے۔

اخبار کے مطابق مرکز میں حکمراں متحدہ ترقی پسند محاذ کے دور اقتدار ميں دہشت گردوں نے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔ اخبار کے مطابق 2004 میں یو پی اے کے اقتدار میں آنے کے بعد شدت پسندوں کے حملے میں جموں و کشیمر کو چھوڑ کر کم از کم 598 افراد ہلاک اور اس سے کہيں زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اردو روزنامہ ’ہماراسماج ‘نے سرخی لگائی ہے۔’ سیریل بم دھماکوں سے احمدآباد دہل اٹھا، شہر میں افراتفری۔‘ اخبار کے مطابق سرکاری ایجینسیوں کو ’انڈين مجاہدین‘ نامی شدت پسند تنظیم سے امی امیل موصول ہوا تھا جس میں احمد آباد اور گجرات کے دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

ہندی روز نامہ’ہندوستان‘ کی سرخی ہے۔ اب احمدآباد۔ اخبار سوال کرتا ہے کہ
’یہ بنگلور بلاسٹ کا سیکوئل تو نہيں !‘

روزنامہ ’امر اجلا‘ کی بینر ہیڈ لائن ہے۔ اس بار احمدآباد۔ جبکہ دوسری لائن میں دھماکوں کی تفصیل دی گئی۔ اور لکھا ہے کہ انڈین مجاہدین نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ہندی روز نامہ ’نو بھارت ٹائمز‘ کے مطابق’ اترپردیش سے گجرات کے دھماکوں کا پیٹرن ایک جیسا ہے۔ بم دھماکے کرنے والی تنظیم کا نام اہم نہيں ہے۔ اہمیت اس بات کی ہےکہ بار بار ہندوستان کو چیلنج کیا جارہا ہے۔‘

ہندی روز نامہ ’جن ستّا‘ کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے ملک گیر سطح پر سکیورٹی کے حالات کے جائزے کے لیے اتوار کوایک اعلی سطحی میٹنگ طلب کی ہے۔

’دینک جاگرن‘ کے مطابق جمہ کو بنگلور او پھر بہاں ہوئے دھماکوں سے واضح ہے کہ شدت پسندوں کی منشہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار والے صوبوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

احمد آباد دھماکے(فائل فوٹو)دھماکے کے عینی شاہد
’بس رکی تو افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد