احمد آباد لرز گیا، 16 بم دھماکوں میں 29 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست گجرات کے احمد آباد شہر ميں یکے بعد دیگرے متعدد دھماکے ہوئے ہيں جن میں کم از کم 29 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں کل 29 افراد ہلاک جبکہ 88 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ریاستی پولیس نے دھماکوں کی تعداد انیس بتائی تھی۔ یہ بھارت میں گزشتہ دو دن میں سلسلہ وار دھماکوں کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو بنگلور میں سات سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے تاہم ان دھماکوں میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔ بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹل اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے عوام سے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ احمد آباد میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ملک کے دشمنوں نے آج مہاتما گاندھی کی زمین کو خونریز کر دیا ہے۔ ’دہشت گردوں نے ہندوستان کے خلاف جنگ کا سلسسلہ چلایا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا عمل انسانیت کے خلاف ایک دشمنی کا نتیجہ ہے۔ ’ملک کے مختلف مقامات پر ایک ہی نوعیت کے دھماکے ہو رہے ہیں، تو کوئی نہ کوئی ماسٹرمائنڈ گرپ یا ملک، اس کو آپریٹ تو ضرور کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ہی قسم کی ’موڈس اپرینڈی‘ (طریقہ کار) استعمال میں لایا جا رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ گجرات سرکار انسانیت کے دشمنوں کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گي اور گجرات کی ترقی مزید تیز کر کے دہشتگردوں کو جواب دیا جائے گا۔ دریں اثناء مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے دلی میں صحافیوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں لیکن وہ ابھی اسے عام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں کا شکار ہوئے افراد کے لواحقین کے لیے ان کی پوری ہمدردی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الوقت کسی بھی قسم کی الزام تراشی صحیح نہیں ہے۔وزير داخلہ نے بتایا کہ اتوار کو ایک مینٹگ طلب کی گئی ہے جہاں ان دھماکوں کے بارے موصول ہوئی اطلاعات کا تجزیہ کیا جائے گا۔ احمدآباد کے سینیئر صحافی اجے امٹھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا یہ دھماکے باپو نگر، منی نگر، ایسان پور ، سارکیھج، نارول ، رائے پور، سارنگ پور اور سنگم سنیما علاقوں میں ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں بیشتر مزدوروں کی آبادی تھی جہاں کافی مسلمان بھی رہتے ہیں۔اجے امٹھ نے بتایا ہے کہ اب تک کسی بھی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمےداری قبول نہیں کی ہے۔
گجرات کے گاندھی نگر سے رکن پارلیمان اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے ٹی وی چینلوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ بنگلور اور احمدآباد میں ایک کے بعد ایک دھماکوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الوقت کسی بھی قسم کے امکانات صحیح نہیں ہوں گے لیکن یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔انہوں نے ریاستوں سے دہشتگردی کے خلاف قانون (پوٹا) کو جلد سے جلد منظور کرنے کی اپیل کی ہے۔ | اسی بارے میں دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا بنگلور: دوسرے دن بم ناکارہ بنایا گیا26 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||