بنگلور: دوسرے دن بم ناکارہ بنایا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے ’ آئی ٹی کیپیٹل‘ بنگلور میں جمعہ کو ہوئے آٹھ سلسلہ وار دھماکوں کے دوسرے دن شہر کے کورا منگلہ میں فورم مال کے نزدیک ایک بم پایا گيا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد شہر میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہيں۔ اور ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ شہر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کی حفاظت کے لیے سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس یعنی سی آئی ایس ایف کو تعینات کیا جائے گا۔ جمعے کو شہر میں سلسلے وار آٹھ دھماکے ہوئے تھے جن میں ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ بنگلور کے پولیس کمشنر شنکر ایم بدری نے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکوں کی تفتش جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کسی سراغ ملنے سے متعلق کچھ کہنے سے گریز کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا دھماکوں کے سلسلے ميں کسی کی گرفتاری ہوئي ہے تو ان کا کہنا تھا: ’ہم تیزی سے تفتیش کر رہے ہيں اور اس متعلق جیسے ہی کسی کی گرفتاری ہوگی، اطلاع دے دی جائے گی۔‘ دوسری جانب مرکزي وزیر برائے داخلہ شیو راج پاٹل نے کہا کہ آئی ٹی صنعت کے تحفظ کے لیے سی آئی ایس ایف کے قانون میں بعض ترمیم کی جائے گي۔تاکہ انہيں آئي ٹی صنعت کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جاسکے۔ موجودہ قانون کے مطابق سی آئی ایس ایف کے جوانوں کو صرف سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے مامور کیا جاسکتا ہے۔ بنگلور میں جمعہ کو ہونے والے بم دھماکے معمولی نوعیت کے تھے، پولیس کے مطابق اس کا بنیادی مقصد شہر کے امن و قانون کو تباہ کرنا اور افراتفری پیدا کرنا تھا۔ یہ دھماکے شہر کے مڈیوالا، آڈو گڈی، ہوسر روڈ، میسور روڈ ، نین دھلی اور کورمنگلہ علاقوں میں ہوئے تھے۔اور یہ سبھی مصروف علاقے ہیں۔ جہاں کئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر بھی ہیں۔ اس سے قبل 2005 میں بنگلور ميں شدت پسند حملہ ہوا تھا ۔ اس وقت انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس ميں شدت پسندوں نے گولیاں چلائی تھیں جس میں ایک پروفیسر کی موت ہو گئی تھی۔ |
اسی بارے میں بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||