جے پور دھماکے: حرکت الجہاد پر شک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں منگل کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کی خبر سبھی اخبارات نے پہلے صفحہ پر شائع کی ہے۔ انگریزی کے روزنامے دا ٹائمز آف انڈیا نے ’اب جےپور‘ سرخی دی ہے۔ اس کے علاوہ اخبار نے گزشتہ برسوں میں منگل کو ہونے والے بم دھماکو کی فہرست شائع کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سے قبل یکم جنوری 2008 کو رام پور میں 11 جولائی 2006 کو ممبئی میں ، سات مارچ 2006 کو بنارس میں اور پانچ جولائی 2006 کو ایودھیہ میں منگل کو ہی بم دھماکے ہوئے تھے۔ اخبار نے ان دھماکوں کو مہاراشٹر کے مالے گاؤں میں ہونے والے بم دھماکوں کی طرز پر بتایا ہے۔ اردو کے اخبار ہندوستان ایکسپریس نے لکھا ہے ’ بم دھماکوں سے شہر دہل گیا‘۔ اخبار نے اپنے صفحہ اول پر جو تصاویر شائع کیں ہیں ان میں ایک شخص کی شرٹ بری طرح خون ميں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ دوسرا شخص زخمی حالات میں اپنے ہی ہاتھ میں گلوکوز کی بوتل لیے ہوئے کھڑا ہوا ہے۔ انگریزی کے اخبار انڈین ایکسپریس نے تقریباً آدھے صفحہ پر متاثرہ افراد کی تصاویر شائع کیں ہیں جس میں ایک اس رکشے والے کی تصویر ہے جس کی موت دھماکے کے وقت ہو گئی تھی جبکہ دوسری تصویر ميں ایک خاتون اور ایک نوجوان دھماکوں کے بعد دہشت میں ہیں۔ اخبار نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ کس طرح آج کل بم دھماکے منگل کو مندر میں اور جمعہ کو مسجد میں ہو رہے ہیں۔ اخبار نے یہ بتایا ہے کہ ریاستی اور مرکزي دونوں حکومتوں کے لیے یہ ایک دھچکہ تھا کیوں کہ جے پور کبھی بھی دہشتگردی کے ممکنہ ٹھکانوں میں نہیں تھا۔ انگریزی کے ایک اور اخبار ’دی پائنئر‘ نے ان دھماکوں کے پیچھے حرکت الجہاد الاسلام کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
انگریزي کے ہی اخبار ہندو نے بھی ان دھماکوں کے پیچھے حرکت الجہاد الاسلام کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتے ہوئے اخبار نے ایک خبر ان موبائل فونز سے متعلق کی ہے جو جے پور کے سوائے مان سنگھ ہسپتال میں رکھی ہوئی لاشوں کے کپڑپوں میں بج رہے تھے۔ ڈاکٹر یہ نظارہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہیں موبائل فون کا استعمال ہلاک ہونے والوں کے رشتےداروں کو مطلع کرانے کے لیے کیا گیا۔ وہیں ہندوستان ٹائمز نےخبر شائع کی ہے کہ ان دھماکوں میں کم شدت والے مادے کا استعمال کیاگیا ہے جس میں امونیم نائٹریٹ یا آر ڈی ایکس جیسے مادے کا استعمال کیا گیا۔ اخبار نے یہ یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دھماکوں میں ٹریگرز اور ڈیٹونیٹر بھی استعمال کیے گئے تھے۔ وہیں اخبار نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ان میں حرکت الجہاد الاسلام اور لشکر طیبہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے حبکہ اس سوال کے جواب میں کہ جے پور ہی کیوں؟ اخبار نے لکھا ہے کہ یہاں کافی تعداد میں ملک اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں اور ان حالات میں بین الاقوامی سطح پر توجہ ملتی ہے۔ |
اسی بارے میں جے پور میں سات دھماکے،ساٹھ ہلاک13 May, 2008 | انڈیا جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا جے پور میں سات دھماکے: 45 ہلاک، درجنوں زخمی13 May, 2008 | انڈیا اجمیردھماکہ، تفتیش میں پیش رفت13 October, 2007 | انڈیا اجمیر دھماکے کی تفتیش جاری12 October, 2007 | انڈیا لدھیانہ میں بم دھماکہ، چھ ہلاک14 October, 2007 | انڈیا اجمیر: مشتبہ افراد کے خاکے جاری23 October, 2007 | انڈیا آسام دھماکہ: پانچ ہلاک، پچاس زخمی16 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||