اجمیردھماکہ، تفتیش میں پیش رفت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر داخلہ شیو راج پاٹل کا کہنا ہے کہ اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کے احاطے میں ہونیوالے بم دھماکے کے ’تار سرحد سے ملتے ہیں‘۔ مسٹر پاٹل نے سنیچر کے روز اجمیر میں جائے حادثہ کا جائزہ لیا اور کہا کہ اس معاملے کی تفتیش صحیح سمت میں جاری ہے۔ جمعرات کو درگاہ کے احاطے میں ہوئے بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کو دھماکے کے متعلق کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں لیکن اس وقت تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں۔’اگر اس وقت سب کچھ بتا دیا گیا تو مجرم چھپ سکتے ہیں، مجھے پولیس نے تفتیش کے متعلق کافی جانکاری دی ہے، حادثے کے تار سرحد تک پہنچ رہے ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں مسٹر پاٹل نے کہا کہ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔’ تفتیش پوری ہونے کے بعد اس کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔‘
شیو راج پاٹل کا کہنا تھا کہ درگاہ کی زیارت کے لیے پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں جن کی حفاظت ایک اہم مسئلہ ہے۔ ’سینئر اہلکاروں نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ حفاظتی بند وبست کے لیے کیا کرنا ضروری ہے، مرکزی اور ریاستی حکومت سے صلاح و مشورہ کے بعد اس کے لیے ایک خاص منصوبے کا اعلان کیا جائےگا۔‘ ادھر ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ دھماکے کی تفتیش میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں ثبوتوں کی بنیاد پر جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچنا ممکن ہوگا۔ |
اسی بارے میں اجمیر دھماکے کی تفتیش جاری12 October, 2007 | انڈیا اجمیر شریف میں دھماکہ، دو ہلاک11 October, 2007 | انڈیا آسام دھماکہ: چھ ہلاک، تیس زخمی01 October, 2007 | انڈیا انڈیا: فوج مساجد کی مرمت سے الگ04 June, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||