حیدرآباد دھماکوں سے تناؤ میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد بم دھماکوں کی ذمہ داری اور حفاظتی انتظامات زیر بحث ہیں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بحث و مباحثے سے شہر کی مسلمانوں اور دیگر آبادی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ شہر کے چار مینار کے علاقے میں اس نامہ نگار نے کئی افراد سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی لیکن زیادہ تر لوگوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ جنوبی شہر حیدرآباد میں گزشتہ تین ماہ میں بم دھماکوں اور کشیدگی و پولیس فائرنگ میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شہرمیں امن ومان برقرار رہا ہے لیکن مسلمانوں کے تئیں شکوک وشبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح کی کارروائی میں مقامی لوگوں کا ہاتھ ہے۔ پرانے شہر چار مینار کے پاس ایک دکان دار دنیش کمار کہتے ہیں’ہمارے شہر کے ہی بعض لوگ ملے ہوئے ہیں اور وہی پناہ دیتے ہیں، یہاں کے لوگ چند پیسوں کے لیے بک جاتے ہیں جنہیں پکڑنا بہت ضروری ہے ورنہ شہر کا امن وامان خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘ کندن سنگھ کہتے ہیں کا ملک میں جب بھی اس قسم کا واقعہ ہوتا ہے ایک خاص طبقہ پکڑا جاتا ہے اور حیدرآباد میں جو بھی کچھ ہورہا ہے اس میں ملک کے لوگ ضرور ملوث ہیں۔’جب بھی کوئی پکڑا جاتا ہے وہ اسی ملک کا ہوتا ہے، کبھی ناگپور سے تو کبھی حیدرآباد سے اور کبھی اورنگ آباد سے، اپنے لوگوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔‘ ملاّ ریڈی کا بھی یہی خیال ہے۔ بقول ان کے اس کے پیچھے بعض تنظیمیں سرگرم ہیں اور شہر کے بعض لوگ اس میں ملوث ہیں۔’ یہ کام بنیاد پرست دہشت گردوں کا ہے، مکّہ مسجد میں بھی وہی ملوث تھے اور اب پھر وہی یہ کر رہے ہیں۔‘ راما کرشنا کہتے ہیں کہ شہر کے بعض لوگ دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہو۔ تاہم شہر کے بیشتر مسلمان رہائشی نالاں ہیں کہ ایسے کسی بھی واقعے کی ذمہ داری بلا سوچے سمجھے اجتماعی طور پر ان کے سر منڈھ دی جاتی ہے۔ مکہ مسجد دھماکے میں زحمی ہونے والے معیظ شیخ کہتے ہیں۔’ جب کچھ ہوتاہے تو بغیر سوچے سمجھے مسلمانوں کا نام اچھال دیا جاتا ہے، ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلانے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟‘ مرزا خلیل بیگ کا کہنا تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے تاکہ ایک خاص برداری کو نشانہ بنایا جاسکے۔’ پوری دنیا میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ہمارے یہاں بھی حکومت ویسا ہی سوچتی ہے اور سارے الزامات ایک برادری پر عائد کر دیتی ہے تاکہ انہیں کمزور کیا جاسکے۔‘
فیروز خان کی شکایت ہے کہ بعض شر پسند عناصر تخریبی کاموں میں ملوث ہیں لیکن اس کے لیے پوری برادری کوذمہ دار ٹھرانا صحیح نہیں ہے۔’ کچھ لوگ ایسا کرتے ہيں لیکن ٹار چر سبھی کو کیا جاتا ہے، معصوم نوجوانوں کو پکڑا جاتا ہے اور خاندان کے خاندان پریشان ہوتے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔‘ بیشتر مسلمانوں کا کہنا تھا کہ بم دھماکوں سے ان پر دو طرح کی مشکلات آتی ہیں، ایک تو وہ خود ان بم دھماکوں کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرے اس کی ذمہ داری اس طرح عائد کی جاتی ہے جیسے پوری مسلم برادری اس کی ذمہ دار ہو۔ محمد مظہرالدین کا کہنا تھا: ’جب ہم پہ انگلیاں اٹھتی ہیں تو دل ہی جانتا ہے کہ کتنی تکلیف ہوتی ہے۔‘ لطیف خان بھی پریشان ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی کچھ ہوتا ہے ایک برادری اس کی زد میں آجاتی ہے جبکہ دوسروں سے کچھ پوچھا بھی نہیں جاتا ہے، شیطانیت تھوڑی تھوڑی تو سب میں ہے اور بغیر تحقیق کے الزمات دینا قطعی غیر مناسب ہے، لیکن اب یہ ایک چلن ہوگیا ہے۔‘ حیدرآباد میں گزشتہ دو عشروں سے فرقہ وارنہ ہم آہنگی برقرار ہے۔ لیکن حالیہ واقعات سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں مشتبہ شخص کاخاکہ جاری 29 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد: زندگی معمول کیطرف28 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||