BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 August, 2007, 09:42 GMT 14:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیدرآباد: زندگی معمول کیطرف

حیدرآباد
بیشتر بازار کھلے ہیں اور سڑک پر معمول کے مطابق ٹریفک ہے
بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں سنیچر کو ہونے والے بم دھماکوں، سوگ اور احتجاج کے بعد کاروبارِ زندگی معمول پر آ رہا ہے۔ دو بم دھماکوں میں بیالیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

منگل کو بیشتر بازار کھل گئے ہیں اور ٹریفک معمول پر آ رہی ہے۔ ملک میں آج بھائی بہن کا تہوار رکشا بندھن منایا جا رہا ہے اور حیدرآباد میں بھی راکھی کی دکانوں پر خرید و فروخت ہو رہی ہے۔

شہر میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور جگہ جگہ پولیس تعینات ہے۔

تاہم عوام میں تشویش پائی جاتی ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی کے انتظامات صحیح ہوں تو پھر ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ بینک میں ملازم مدھو سدن ریڈی نے کہا ’ تنہا نکلنے سے ڈر نہیں لگتا ہے، لیکن فیملی کے ساتھ لگتا ہے، سکیورٹی پر توجہ کی ضرورت ہے اگر وہ کڑی ہوگی تو لوگوں میں اعتماد بڑھےگا۔‘

کالج کی طالبہ حفصہ قادری کہتی ہیں باہر نکلنے پر گھر والوں کو تشویش رہتی ہے لیکن ’یہ سب نفرت اور خوف پیدا کرنے کے لیے کیا جارہا ہے، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں اور اس سے ہم میں اتحاد بڑھےگا، اگر کالج بند نہ ہوتا تو میں قطعی چھٹی نہیں کرتی۔‘

بنگلہ دیشی اور پاکستانی گرفتار
 اطلاعات کے مطابق پرانے شہر سے تقریباً دو درجن بنگلہ دیشی اور پاکستانی باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس تقریباً تیس عینی شاہدوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے

ادھر اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے ملے بم کے اجزاء سے کئی سراغ ملے ہیں اور اس معاملے کی تحقیق آگے بڑھی ہے لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس موقع پر تفتیش کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں لیکن ’بعض اہم سراغ ہاتھ لگے ہیں‘۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پرانے شہر سے تقریباً دو درجن بنگلہ دیشی اور پاکستانی باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تاہم پولیس حکام نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا ہے۔ پولیس تقریباً تیس عینی شاہدوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں ناگپور میں بھی تفتیش کی جا رہی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادہ خریدا گیا تھا۔ پولیس یہ پتہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کہیں اس خریداری کا تعلق ان دھماکوں سے تو نہیں۔

میرا درد ۔۔۔
حیدرآباد دھماکے: ’میرا پورا خاندان چل بسا‘
حیدر آبادہلاکتوں کا درد
’دو دھماکوں نے حیدرآباد کی فضا ہی بدل دی ہے‘
موہن ریڈیحیدرآباد دھماکے
’بچوں، خواتین کو تڑپتے دیکھا تو بدحواس ہوگیا‘
زخمیحیدرآباد دھماکے
خون، خوف اور سوگ بھری فضا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد