حیدرآباد دھماکے، پورا خاندان چل بسا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دونوں بچے اور میرا بھائی میری جان سے بھی عزیز تھے، شوہر کے انتقال کے بعد سے میرا تھا ہی کون، بھائی اور اس کے بچے ہی تو میری زندگی تھے، پر اب تو سب کچھ لُٹ گیا، میں کیا بتاؤں، میرے درد کو کون سمجھ سکتا ہے؟‘ یہ کہتے کہتے سلطانہ بیگم زار و قطار رو پڑیں۔ کہنے لگیں: ’میں تنہا مصیبت جھیلنے کے لئے بچی ہوں۔‘ سلطانہ بیگم کے بھائی محمد سلیم، ان کی بیوی فریدہ ناز اور دو بچے محمد عامر اور محمد علی بم دھماکے میں چل بسے۔ سنیچر پچیس اگست کے بم دھماکوں میں سلیم کا ہی ایک ایسا خاندان ہے جس کا ایک بھی فرد زندہ نہیں بچا۔ ان کی پڑوسن عذرا بلقیس نے بتایا کہ رات کو سلیم کی ان کے گھر پر دعوت تھی۔ ’جاتے وقت میں نے کہا کہ آپ باہر کہاں جا رہے ہیں، تو انہوں نے کہا بچے چاٹ کھانے کی ضد کر رہے ہیں، میں ابھی واپس آکر نماز پڑھوں گا اور پھر ڈنر آپ کے ساتھ ہی ہوگا لیکن پھر وہ واپس نہ آئے۔‘ سلیم کے ایک بھتیجے منصور نے بتایا کہ ٹی وی پر خبریں دیکھ کر ان کی تلاش شروع کی گئی اور دیر رات گئے عثمانیہ ہسپتال میں چاروں کی لاشیں ملیں۔ لاشوں کی حالت ایسی تھی کہ انہیں دیکھا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ’بڑے بچے اور چچا کا سر ہی نہیں تھا اور چاجی کا آدھا چہر بچا تھا، پانج برس کے علی کا چہرہ سلامت تھا، بڑی مشکل سے لاشوں کی پہچان ہو پائی۔‘
جوئیریہ عصمت کہتی ہیں کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ معصوموں کی جان لینے سے کیا فائدہ ہوگا۔ ’اللہ ایسے لوگوں کا بھی انصاف کرےگا، دھماکوں اور شوٹنگ کی خبریں سن کر ہم افسوس تو کیا کرتے تھے لیکن مجھے پہلی بار احساس ہوا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی لوگ بم کا شکار ہوتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی۔‘ عامر اور علی کے دس سالہ دوست صہیب کہتے ہیں: ’ہم ساتھ ساتھ کمپیوٹر گیم کھیلتے تھے، انہیں دیکھ کر میں رویا اور اب مجھے باہر جانے سے ڈر لگتا ہے۔‘ بم دھماکوں میں چند خاندانوں کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ اس میں سے ایک شنکر ہیں جن کے خاندان کے تین لوگ مارے گئے ہیں۔’میری اٹھارہ برس کی بیٹی، میرا ایک کزن اور اس کی بیوی آئس کریم کھانے گئے تھے اور وہ تینوں ہی ہلاک ہوگئے۔‘ یہ کہتے کہتے شنکر رو پڑے اور بھررائی ہوئی آواز میں بولے کہ میری بیٹی تو کل ہی انجینیرنگ میں داخلے کے لیے کونسلنگ کر کے آئی تھی لیکن سب کچھ مٹ گیا۔ حیدرآباد میں سنیچر کے بم دھماکوں میں سبھی فرقہ کے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک خاتون نے دھماکوں کے متعلق کہا کہ بم کسی رنگ و مذہب کے نہیں ہوتے، ان کی ایک ہی نسل ہے: ’انسان دشمنی۔‘ |
اسی بارے میں دھماکوں کے بعد حیدر آباد میں ہڑتال27 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد دھماکوں کی تحقیقات جاری26 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد دھماکے، لوگوں نے کیا دیکھا26 August, 2007 | انڈیا انڈیا الزامات سے گریز کرے: پاک27 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||