عمر فاروق بی بی سی حیدرآباد |  |
 | | | مشتبہ شخص کا خاکہ ایک زخمی عینی شاہد کے بیان پر تیار کیا گیا ہے۔ |
آندھرا پردیش کی پولیس نے ہفتے کو حیدرآباد میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کا خاکہ جاری کیاہے۔ لمبنی آڈیٹوریم کے مقام پر ہونے والےدھماکے کے سلسلے میں یہ خاکہ دھماکے کے عینی شاہد ایک زخمی شخص کے بیان کی بنیاد پرجاری کیا گیاہے۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر پونا راؤ نے بدھ کو خاکہ جاری کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ شخص کی عمر تقریبا پچیس سال ہے، ان کے مطابق اس کا قد پانچ فٹ اور آٹھ انچ، رنگ گورا اور بال ملائم ہیں اور دھماکے کے وقت وہ عینک پہنے ہوئے تھا۔ مسٹر راؤ کے مطابق مشتبہ شخص کے پاس کالے رنگ کا ایک بیگ تھا جسے وہ اپنے پیر کے پاس رکھے ہوا تھا اور اپنی دونوں جانب اس نے دو دو کرسیاں خالی کر رکھی تھی۔ پولیس کمشنر کا کہنا ہے ’میں نے یہ خاکہ اس شخص کے بیان پر جاری کیا ہے جو مشتبہ شخص کے ساتھ کچھ وقفے کے لیے بیٹھا تھا‘۔ تاہم انہوں نے عینی شاہد کی شناخت کے بارے میں جانکاری دینے سےانکار کردیا۔ ان کے مطابق عینی شاہد کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے اور اس کے سر میں چوٹیں آئی ہیں۔
 | | | دھماکے کی جگہ عینی شاہد مشتبہ شخص کے ساتھ بیٹھا تھا۔ |
ان کا کہنا ہے کہ عینی شاہد کے ذریعہ جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں وہ بہت صحیح اور مناسب ہيں کیوں کہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں وہ اور مشتبہ شخص ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ مشتبہ شخص کا خاکہ عینی شاہد کی تفصیلات کے عین مطابق تیار کیا گيا ہے اور وہ نوے فیصد سے زیادہ مشتبہ شخص سے ملتا ہے۔ پولیس نے گوکل چاٹ اور لمبنی آڈیٹوریم میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے لیےعوام سے اپیل کی ہے۔ لمبنی آڈیٹوریم میں دھماکے کے وقت لیزر شو دیکھنے والوں سے کہا گیا ہے کہ اگر انہيں کسی شخص کی حرکت پر شبہ ہوا ہو تو اس کے بارے ميں پولیس کو مزید جانکاری دیں۔ دھماکہ کے سلسلے میں اب تک پولیس نے متعدد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں بھی لیا ہے۔ |