لکھنؤ کے انگریز بابا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مزاروں پر پھول، چادر، اگر بتی اور مٹھائی چڑھا کرعقیدت کا اظہار کرنا صدیوں پرانی روایت ہے۔ کسی مزار پر شراب اور سگریٹ کے نذرانے پیش کیۓ جائیں تو یہ یقیناً حیرت کی بات ہے لیکن ہندوستان کے تہذیبی شہر لکھنؤ میں ایک ایسا مزار ہے جس پرعقیدت مند اپنی مرادوں کے لیے شراب چڑھاتے ہیں۔ شہر کے مضافات میں یہ مزار برطانوی دور کے ایک انگریز کپتان کا ہے۔ لکھنؤ ہردوئی روڈ پر موسئی باغ میں سترہويں صدی کی ایک شاندار عمارت برطانوی دور میں تحریک آزادی کا گہوارہ تھی۔اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے بعد بہت سے مزاحمت کاروں نے اسی عمارت میں پناہ لی تھی۔ اب یہ عمارت ایک کھنڈر میں تبدیل ہوچکی ہے لیکن عمارت کے ایک مکین انگریز کیپٹن ’ایف والے‘ کی قبر کی دور دور تک شہرت ہے۔ ہر ماہ کی پہلی جمعرات کو اس قبر پر میلہ لگتا ہے۔ کیپٹن ’والے‘ کی قبر ’بیئر والے بابا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے قریب ہی ایک مسلمان صوفی سید امام علی کا مزار ہے۔ ان دونوں کی نگرانی ایک عمررسیدہ خاتون خیرالنساء کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیپٹن والے کے مزار پر زیادہ تر ہندو عقیدت مند منّتیں مانگتے ہیں۔خیرالنساء کے بقول اس پر مٹھائی، مرغی کے انڈے، سگریٹ اور شراب کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ عام طور پر قرب و جوار کےلوگ آتے ہیں لیکن دلی اور ملک کے دیگر مقامات سے بھی بہت سے عقیدت مند آتے ہیں۔ خیرالنساء نے بتایا کہ اس مزار کی دیکھ بھال کے لیے عقیدت مند انہیں ہزاروں روپے کے تحائف بھی پیش کرتے ہیں۔ ایک مرید محمد حنیف انصاری نے بتایا کہ مزار کی زیارت کے لیے زیادہ تر وہ لوگ آتے ہیں جو قتل یا خاندانی جھگڑوں میں پھنسے ہوں۔ ’خاص کر قتل کے مقدمات سے نجات پانے کے لیے سپہ سالار صاحب کے پاس لوگ آتے ہیں۔ اگر قبر پر سگریٹ اور انگریزی شراب کا نذرانہ پیش کریں تویہ مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں خیرالنساء نے بتایا کہ انہیں صحیح طور پر نہیں معلوم لیکن شاید کپتان صاحب کو شراب ، سگریٹ اور چائے پسند تھی اسی لیے ان کے عقیدت مند اس طرح کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک واقعہ بھی سنایا۔ ’ایک شخص قتل کے مقدمے میں بہت پریشان تھا۔ وہ صبح عدالت میں پیشی سے قبل قبر پر آ کر خوب رویا اور شام کو ہنستے ہوئے آیا۔ مقدمہ جیتنے کی خوشی میں ایک جشن ہوا اور بڑی مقدار میں شراب اور سگریٹ کا نذرانہ پیش کیاگیا۔‘ موسئی باغ کے بغل میں کھڑے گاؤں کے ایک باسی منوہر کہتے ہیں کہ بیئر والے بابا میں بڑی شکتی (طاقت) ہے۔’سگریٹ جلا کر مزار پر رکھ دیں تو پوری ختم ہونے پر ہی گل ہوتی ہے۔ لیکن بابا شراب کی بوتل کی خوشبو لیتے ہیں، پحتے نہیں۔‘ مزار کی ایک طرف کھیت ہے۔ اس میں کام کرنے والے ایک کسان کا کہنا تھا کہ شراب اورسگریٹ کے نذرانے آس پاس کے اوباش لڑکے چٹ کر جاتے ہیں۔ ’میرا خیال ہے جنہیں مفت سگریٹ اور شراب نوشی کی لت لگی ہے وہی اس مزار سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور میلہ بھی دکانداری کا ایک ذریعہ ہے۔‘ اس تاریخی عمارت کی تعمیر نواب آصف الدولہ نےکروائی تھی جسے انگریزوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ کیپٹن والے اسی عمارت میں رہتے تھے اور قبر پر نصب کتبہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا انتقال اٹھارہ سو اٹھاون میں ہوا تھا۔ مشہور ہے کہ ’ کیپٹن والے‘ امام علی سیّد کے مرید تھے اس لیے جو شخص انہیں شراب کا نذرانہ پیش کرتا ہے امام صاحب اس کی مراد پوری کردیتے ہیں۔ بیئر والے بابا کے مزار کی حفاظت ہندو اور مسلمان دونوں کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||