انڈیا: فوج مساجد کی مرمت سے الگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ وہ مسجدوں اور مدارس کی از سرِ نو مرمت کا کام نہیں کرے گی۔ حال میں ریاست کے مختلف گروپس نے فوج کے اس آپریشن کی سخت مخالفت کی تھی جس کے تحت وہ مسجدوں اور مدرسوں کی از سرِ نو تعمیر کر رہی تھی۔ ریاست میں بھارتی فوج یہ کام ’سد بھاونا‘ خیر سگالی آپریشن کے تحت کر رہی تھی۔ ریاست کے اعلی مفتی، مفتی بشیرالدین اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے فوج پر مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں غیر ضروری دخل کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور مسجدوں اور مدرسوں کی مرمت نہیں کر سکتا‘۔ ریاست میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فوج کے لیفٹینٹ جنرل اے ایس سیکھون نے بتایا ’ہمارا ارادہ کسی برادری کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنے کا نہیں تھا۔ ہم وہ کام نہیں کرسکتے جس سے کسی قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں اب تک جن مسجدوں اور درگاہوں کی از سرِ نو تعمیرکا گئی وہ مقامی لوگوں کی درخواست پر کی گئی۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم سیکولر ہیں اور مسجدوں اور درگاہوں کی از سرِ نو تعمیر کے پیچھے کوئی چھپا ہوا مقصد نہیں تھا۔ حالانکہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ سدبھاونا آپریشن کے تحت فوج ریاست میں لوگوں کو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مدد فراہم کرتی رہے گی ’لوگوں کو حفاظت فراہم کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں جہاں فوج کی تعداد زیادہ ہے ہم لوگوں کو صحت، ووکیشنل ٹرینگز اور ديگر مدد فراہم کرنے کا کام جاری رکھیں گے‘۔ حال ہی میں فوج نے کہا تھا کہ اس نے ریاست میں درگاہوں اور مسجدوں کی مرمت پر تقریباً پچپن لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ ان میں سے بیس لاکھ روپے بڈگام ضلع میں آغا آیت اللہ مہدي کی درگاہ کی مرمت پر خرچ ہوئے ہیں۔ فوج کے سدبھاونا آپریشن پر سب سے پہلے تنقید علیحدگی پسند گروپ آل پارٹی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ فوج نے ریاست کی درگاہوں کو منہدم کیا ہے اور ان کی توہین کی ہے۔ درگاہوں اور مسجدوں کی ازسرنو مرمت کر کے فوج لوگوں کا دھیان کشمیر کے اصل مسئلہ سے ہٹانا چاہتی ہے‘۔ ریاست میں انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن پرویز امروز کا کہنا ہے کہ ’فوج نے ریاست میں سکول بنائے ہوں گے لیکن جب بات ان سکولوں، پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی باغوں کو چھوڑنے کی ہوتی ہے جن پر فوج قابض ہے تو وہ اس سے انکار کیوں کرتی ہے؟‘۔ | اسی بارے میں کشمیر:’ہمیں فوج کی مدد درکار نہیں‘29 May, 2007 | انڈیا مسجد کی خراب حالت پر مظاہرے27 April, 2007 | انڈیا کشمیرمیں چھاؤنیاں ہٹ رہی ہیں28 April, 2007 | انڈیا ’دلّی نے اقتدار کا لالچ دیا تھا‘02 May, 2007 | انڈیا کشمیر: دلّی کا چار نکاتی فارمولہ تیار19 May, 2007 | انڈیا کشمیر میں ایک فوجی ہلاک26 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||