BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:’ہمیں فوج کی مدد درکار نہیں‘

بھارتی فوج
’ریاست کے عوام فوج کے سدبھاونا آپریشن سے خوش نہیں ہیں‘
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر میں ریاست کے مفتی اعظم نے بھی فوج کے ذریعہ مسجدوں اور مدرسوں کی از سرِ نو مرمت کروانے کی سخت مخالفت کی ہے۔

اس سے قبل حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی اس عمل کی مخالفت کر چکے ہیں۔

ریاست میں بھارتی فوج یہ کام خیر سگالی کے جذبے کے تحت’سد بھاونا‘ آپریشن کے تحت کر رہی ہے۔ مفتی بشیرالدین نے فوج پر مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں غیر ضروری دخل دینے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے’مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور مسجدوں اور مدرسوں کی مرمت نہیں کر سکتا‘۔

مفتی بشیر الدین کشمیر کے سب سے بڑے مفتی ہیں اور انہیں حق ہے کہ وہ مسلمانوں کے معاملات میں فتوٰی جاری کر سکتے ہیں۔ مفتی بشیر نے مسلمانوں سے فوج کے اس آپریشن کی مخالفت کرنے کی اپیل کی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ریاست میں درگاہوں اور مسجدوں کی مرمت پر تقریباً پچپن لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ ان میں سے بیس لاکھ روپے بڈگام ضلع میں آغاہ آیت اللہ مہدي کی درگاہ کی مرمت پر خرچ ہوئے ہیں۔

سدبھاونا آپریشن کے تحت فوج نے ریاست کے دیہاتی علاقوں میں سکول بھی تعمیر کیے ہیں۔ فوج کے ترجمان کرنل اے کے ماتھر کا کہنا ہے’اس آپریشن کا مقصد لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ہم ہر طریقے سے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں‘۔

ریاست میں سرکردہ انسانی حقوق کے کارکن پرویز امروز کا کہنا ہے’ریاست کے عوام فوج کے سدبھاونا آپریشن سے خوش نہیں ہیں۔ اس سے جن افراد کو فائدہ ہوا ان لوگوں نے ہی ہمیں بتایا کہ انہوں نے فوج کے ڈر سے آپریشن کو قبول کیا ہے‘۔

پرویز امروز کا کہنا ہے’ہو سکتا ہے فوج نے دیہاتوں میں سکول بنائے ہوں لیکن جب بات ان سکولوں ، پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی باغوں کو چھوڑنے کی ہوتی ہے جن پر فوج قابض ہے تو وہ اس سے انکار کیوں کرتی ہے؟‘۔

فوج کے سدبھاونا آپریشن پر سب سے پہلے تنقید علیحدگی پسند گروپ آل پارٹی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کی تھی۔ انہوں نے سری نگر کی جامع مسجد کے باہر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے ریاست کی درگاہوں کو منہدم کیا ہے اور ان کی توہین کی ہے۔ درگاہوں اور مسجدوں کی ازسرنو مرمت کر کے فوج لوگوں کا دھیان کشمیر کے اصل مسئلہ سے ہٹانا چاہتی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد