کشمیر: دلّی کا چار نکاتی فارمولہ تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسئلہ کشمیر کے متبادل حل کے طور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے جو چار نکاتی فارمولہ پیش کیا ہے، اس کے جواب میں حکومت ہند بھی ایک چار نکاتی تصور پر غور کر رہی ہے۔ اس بات کا انکشاف ہندوستانی کالم نگار پریم شنکر جھا نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ اُنیس سو نوے میں پراسرار طورپر قتل کئے گئے میرواعظ عمر فاروق کے والد مولوی محمد فاروق کی سترہویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ اس سیمینارمیں بولتے ہوئے مسٹر جھا نے اشارہ کیا کہ پاکستان کے سفارت کار طارق عزیز اور ہندوستان میں ان کے ہم منصب ستیندر لامبھا کے درمیان جو درپردہ بات چیت عرصہ سے جاری ہے وہ بتدریج ایک ’چار نکاتی خیال‘ پر منتج ہورہی ہے۔ مسٹر جھا، جو خود بھی ٹریک ٹو سفارتکاری میں کرادار ادا کررہے ہیں ، نے کہا کہ اوّل تو کنٹرول لائن کی دونوں جانب یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کون سے جغرافیائی وجود کو کشمیر سے تعبیر کریں۔ اس نکتہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مشرف کی طرف سے شمالی علاقہ جات اور لداخ کو کشمیر سٹیٹ سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز پر غور ہورہا ہے۔ دوسرے نکتہ کی وضاحت میں مسٹر جھا نے بتایا کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب کشمیر کے دونوں حصوں کو ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ دفاعی نگرانی میں دینا ہوگا اور بعد میں حاکمیت (ساورینٹی) کا ایسا خاکہ ترتیب دیاجائے گا جس میں ہندوستان، پاکستان اور کشمیر کو مناسب اثرونفوذ حاصل ہوگا۔ تیسرے نکتہ میں مختلف خودمختار خطوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کرنے کی بات ہے جبکہ چوتھے نکتہ میں کشمیر کے دونوں حصوں میں انتخابات کے حوالے سے ایک مشاورتی کونسل بنانے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن مسٹر جھا نے اپنی بات اس سوال پر ختم کر دی کہ’ اس فارمولہ پر عمل کیسے کیا جائے‘۔ واضح رہے کہ مشرف کے چار نکاتی فارمولہ میں سب پہلے فوجی انخلاءاور مخصوص خطوں کی نشاندہی کی بات کی گئی ہے جنہیں کشمیر سٹیٹ قرار دیا جائے اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ خطے میں لوگوں کو خود حکمرانی کا حق دیا جائے اور خودمختار خطے کے دفاعی و خارجی امور کی نگرانی ہندوستان و پاکستان مشترکہ طور پرکریں۔ مسٹر جھا نے فی الوقت نئی دلّی میں جس کشمیر فارمولہ پر غور کیے جانے کا اشارہ دیا ہے، اس پر میرواعظ کی سربراہی میں ہونےوالی حریت کانفرنس کے زیراہتمام سیمینار میں کافی بحث ہوئی۔ خود میرواعظ نے اس فارمولہ پر براہ راست تنقید سے احتراز کرتے ہوئے کہا ’دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لئے فوجی انخلا پہلا قدم ہے‘۔ انہوں نے جموں کشمیر میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کوغیر متعلق قرار دیا۔ میرواعظ کا کہنا تھا کہ چار سال سے جاری ہند- پاک امن عمل کے حوالے سے الیکشن ایک فروعی حیثیت رکھتے ہیں۔ کشمیری اسلام پسند قیادت میں معتدل تاثر رکھنے والے میرواعظ عمر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دو ہزار آٹھ کے انتخابی مقابلوں میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شرکت کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ
میرواعظ کا خیال ہے کہ ہندوستان بڑی طاقت ہونے کے ناطے مسئلہ کشمیر کو پرتشدد ذرائع سے حل کرنے کی روش ترک کرنے کا پابند ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’مسئلہ کشمیر کے مستقل اور آبرومندانہ حل کی خاطر کوشش کرنے اور الیکشن لڑنے میں زمین آسمان کا فرق ہے بدقسمتی کی بات ہے کہ دلّی والے ابھی بھی امن عمل کو الیکشن کے تناظر میں دیکھتے ہیں‘۔ ’دراصل دلّی کی کشمیر پالیسی نہ صرف یہ کہ اب بھی بیوروکریسی کے تابع ہے بلکہ یہ شارٹ سائٹِڈ نیس(کوتاہ اندیشی) کی بھی شکار ہے‘۔ اُنیس سو نوے میں پراسرار طور قتل کئے گئے میرواعظ کے والد مولوی محمد فاروق کی سترہویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ اس سیمینارمیں جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امیتابھ مٹو کا مقالہ پڑھا گیا جبکہ کشمیریونیورسٹی کے وی سی نےپروفیسرعبدالواحد اور جموں سے شائع ہونے والے اخبار ’کشمیرٹائمز‘ کے مدیر وید بھسین نے خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔ | اسی بارے میں کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی14 April, 2007 | انڈیا سر کریک، سیاچن پر بات چیت04 April, 2007 | انڈیا کشمیرمیں چھاؤنیاں ہٹ رہی ہیں28 April, 2007 | انڈیا کشمیر:حریت کے چھ رہنماگرفتار 26 April, 2007 | انڈیا ’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں‘11 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہیں‘26 December, 2006 | پاکستان بھارتی یوم جمہوریہ پر احتجاج 26 January, 2007 | پاکستان ’ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ‘02 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||