BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجمیر دھماکے کی تفتیش جاری

اجمیر دھماکہ
دھماکے میں دو افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے
اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر جمعرات کے روز بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔

تلاشی کے دوران درگاہ کے احاطے سے پولیس نے جمعہ کی صبح دھماکہ خیز مادے سے بھرا ایک اور تھیلا برآمد کیا تھا جسے ناکارہ بنادیا گیا ہے۔

درگاہ کے ناظم رضا احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مزار کے احاطے میں تقریباً سولہ کلوز سرکٹ کیمرے نصب ہیں اور تفتیش میں ان کی مدد لی جا رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے حراست میں لیے گئے افراد سے ابتدائي پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس واقعے کے بارے میں تفصیلات جمع کی جاسکیں۔ پولیس کی طرف ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے کوئی بھی دھماکے میں شامل تھا یا نہیں۔

درگاہ دھماکہ
پولیس سی سی ٹی وی کی مدد سے تفتیش آگے بڑھا رہی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفتیش صحیح سمت میں جا ری ہے اور انہیں کچھ پختہ سراغ بھی ہاتھ لگے ہیں۔ پولیس نے تفتیش کے دوران دھماکے کے آس پاس سے میٹل کے پرزے اور موبائیل فون کے بعض ٹکڑے برآمد کیے ہیں۔ فی الوقت درگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری بارڈر سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دی گئی ہے اور پورے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو افطار کے وقت درگاہ کے احاطے میں بم دھماکے سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت سے لگتا ہے کہ حملے کو انجام دینے والے افراد کا تعلق باہر سے ہے اور وہ درگاہ سے اچھی طرح واقف نہیں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد