اجمیر دھماکے کی تفتیش جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر جمعرات کے روز بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔ تلاشی کے دوران درگاہ کے احاطے سے پولیس نے جمعہ کی صبح دھماکہ خیز مادے سے بھرا ایک اور تھیلا برآمد کیا تھا جسے ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ درگاہ کے ناظم رضا احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مزار کے احاطے میں تقریباً سولہ کلوز سرکٹ کیمرے نصب ہیں اور تفتیش میں ان کی مدد لی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے حراست میں لیے گئے افراد سے ابتدائي پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس واقعے کے بارے میں تفصیلات جمع کی جاسکیں۔ پولیس کی طرف ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے کوئی بھی دھماکے میں شامل تھا یا نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفتیش صحیح سمت میں جا ری ہے اور انہیں کچھ پختہ سراغ بھی ہاتھ لگے ہیں۔ پولیس نے تفتیش کے دوران دھماکے کے آس پاس سے میٹل کے پرزے اور موبائیل فون کے بعض ٹکڑے برآمد کیے ہیں۔ فی الوقت درگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری بارڈر سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دی گئی ہے اور پورے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ جمعرات کو افطار کے وقت درگاہ کے احاطے میں بم دھماکے سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت سے لگتا ہے کہ حملے کو انجام دینے والے افراد کا تعلق باہر سے ہے اور وہ درگاہ سے اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ | اسی بارے میں اجمیر شریف میں دھماکہ، دو ہلاک11 October, 2007 | انڈیا اجمیر: پنچایت کے حکم پر برہنگی10 September, 2007 | انڈیا اجمیر شریف کِسےووٹ دےگا؟18 April, 2004 | انڈیا خواتین پر پابندی نہیں: اجمیر درگاہ15 June, 2006 | انڈیا دیگ کی نیلامی ڈیڑھ کروڑ میں06 July, 2007 | انڈیا ویزے کے بغیر پاکستانی اجمیر میں02 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||