اجمیر: پنچایت کے حکم پر برہنگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے اجمیر ضلع کے ایک گاؤں میں پنچایت نے قتل اور جنسی زیادتی کے ایک معاملے میں مشتبہ شخص کی شناخت کے لیے لوگوں کے کپڑے اتار کر دیکھے گئے۔ پنچایت نے کئی سو افراد کے کپڑے اتارے اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی ان میں سے تو کوئی اس معاملے میں شامل نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کپڑے اتارنے کے اس واقعہ کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اجمیر کے کوراج گاؤں میں سنیچر کی رات ایک شادی شدہ عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ گاؤں میں پیر کے روز پنچایت بیٹھی اور پھر گاؤں کے ایک ایک آدمی کے کپڑے اتار کر جانچ کی گئی۔ گاؤں کے ایک شخص تارا سبت نے بی بی سی کو بتایا گاؤں کے مردوں نے اپنی مرضی سے اپنا بدن دکھایا تاکہ کسی پر شک نہ کیا جائے۔
اجمیر پولیس کے ایک اہلکار شلپا چودھری نے بتایا کہ پولیس پنچایت کے اس قدم کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔’ایسا ضرور ہے کہ گاؤں میں جنسی زیادتی اور قتل کے معاملے کے بعد لوگوں میں غصہ تھا اور اگر پنچایت نے لوگوں کے کپڑے اتار کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاۓ گی۔‘ راجستھان میں پنچایت کے اس طرح کے حکم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے چتوڑگڑھ ضلع میں چوری کے ایک واقعے میں بے گناہی ثابت کرنے کے لیے لوگوں کو گرم تیل میں ہاتھ ڈالنے کے لیے کہا گيا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ایسی پنچایتوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں۔ | اسی بارے میں عدالت لگانے پر 5 پانچ پنچ گرفتار 16 September, 2006 | انڈیا گجرات میں برہنہ احتجاج05 July, 2007 | انڈیا فوجیوں کیخلاف اشتعال، برہنہ پریڈ27 June, 2007 | انڈیا اجمیر: قطرینہ کی اسکرٹ سے تنازعہ05 October, 2006 | انڈیا دیگ کی نیلامی ڈیڑھ کروڑ میں06 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||