گجرات میں برہنہ احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر راج کوٹ میں بدھ کی شام جس منظر نے تمام شہریوں کے ہوش اڑا دیے تھے، اس کی جب جمعرات کو تمام اخبارات میں تصاویر شائع ہوئیں، تو پورے ملک ميں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ پوجا چوہان نامی 22 سالہ خاتون اپنے سسرال والوں پر ظلم و ذیادتی کا الزام لگاتے ہوئے بطور احتجاج نیم برہنہ حالت میں سڑک پر نکل آئیں تھیں۔ پوجا کا الزام ہے کہ ان کے سسرال والے جہیز کے لالچ میں انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دیتے ہیں۔ پوجا نےیہ الزامات ایک مقامی نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے عائد کیے۔ اطلاعات کے مطابق بوچا نے اپنے سسرال والوں کے خلاف کئی مرتبہ پولیس میں شکایت درج کروانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ لیکن راجکوٹ کے ایک پولیس اہلکار سردار سنگھ جھالا کہتے ہیں کہ: ’اس سے قبل پوجا ایک مرتبہ پولیس سٹیشن آئی تھی اور تین جولائی کی صبح ہی پوجا کی ساس ، شوہر اور ان کے دو اور رشتہ داروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔‘ مسٹر جھالا نے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ پوجا چوہان کا ذہنی توازن شاید ٹھیک نہیں ہے۔ ہندوستان میں ہر برس جہیز کے چھ ہزار سے زیادہ مقدمات عدالتوں میں پہنچتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن رنجنا کماری کہتی ہیں کہ رنجنا کماری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ پولیس اگر لڑکی کا ذہنی توازن صحیح نہ ہونے کی بات کر رہی ہے تو اس کا یہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ مسلسل ذہنی اور جسمانی اذیتوں کے سبب لڑکی کی یہ حالت ہوگئی ۔‘ ہندوستان میں جہیز لینا یا دینا قانوناً جرم ہے۔ لیکن قومی کرائم ریکارڈ بیور کے مطابق سال دو ہزار پانچ میں چھ ہزار سات سو ستاسی خواتین نے جہیز سے متعلق معاملات میں اپنی جان سے ہاتھ دھویا۔ اور اب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں موجودہ قانون کو مزید سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں حدود بل کے خلاف خواتین کا مظاہرہ18 September, 2006 | پاکستان اسلام کی نئی خواتین مبلغ 25 February, 2007 | آس پاس مساوی حقوق اور ایرانی عورت 08 March, 2007 | آس پاس ’خواتین دہشت گردی روکیں‘08 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||