اسلام کی نئی خواتین مبلغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مراکش میں اسلامی دنیا کی ایک نئی اختراع سامنے آئی ہے۔ یعنی خواتین اسلامی مبلغ جو نماز کی امامت کے علاوہ دیگر مذہبی امور خود انجام دے سکتی ہیں۔ ایسی تقریباً پچاس سے زائد خواتین ہیں جنہیں’مرشدات‘ کہا گیا ہے۔ وہ خاص طور پر اسلامی تعلیم سے آراستہ ہیں اور لوگوں میں اسلام کی تبلیغ و تدریس کا کام کر رہی ہیں۔ لیکن بعض لوگ ان کے اس طرز عمل سے متفق نہیں۔ مرشدات اسلامی امور کے متعلق بحث و مباحثے، جسلے جلوس اور دینی امور کے متعلق مشورہ دینے کے ساتھ ساتھ وہ تمام امور انجام دے سکتی ہیں جو ایک امام انجام دیتا ہے لیکن وہ نماز یا دیگر عبادات کی قیادت نہیں کر سکتیں۔ رباط کی ایک مسجد میں خدیجہ الاکتامی مرشدہ ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ایک عورت لوگوں کی رہبری کے لیے مناسب کیوں ہے تو ان کا کہنا تھا ’خدا نے عورتوں کو رحم دل اور حساس پیدا کیا ہے اور مردوں کے مقابلے ان میں صبر کا مادہ بھی زیادہ ہے۔‘ خدیجہ کا کہنا تھا کہ عورت ماں، بیوی، بیٹی اور دوست سبھی ہوتی ہے اس لیے اور وہ اس کردار کو بخوبی نبھا سکتی ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں کیسا بلانکا میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں تقریبا اکتالیس لوگ مارے گئے تھے۔ یہ دھماکےشدت پسند مذہبی تنظیموں کی طرف سے ہوئے تھے اور مراکش کی حکومت نے اسی کے بعد سے خواتین کو مذہبی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وہ سماج میں اعتدال پسند اسلام کی تبلیغ کر سکیں۔ ملک کے وزیر تعلیم احمد توفیق کا کہنا ہے کہ صحت مند سماج کے لیے ایسی مرشدات کا ہونا اہم ہے جو شدت پسندی اور دہشت گردی سے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔’ سماج ایک انسانی جسم کی طرح ہوتا ہے جس کی صحت کے لیے دیکھ بھال اور غذا ضروری ہے۔‘
توفیق احمد کا کہنا تھا کہ سماج کو شدت پسندی سے دور رکھنے کے لیے کئی طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ان میں سے ایک ہے۔ مراکش میں اسلامی تحریک کی تنظیم’جسٹس اینڈ چیریٹی‘ پر پولیس کا ہمیشہ پہرا رہتا ہے۔ یہ تنظیم مراقش کی شنشاہیت کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’مرشدات‘ کو حکومت اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری عبدالوحید متوکل کا کہنا ہے’ اگر آپ اسے رسمی طور پر دیکھیں تو یہ بہت اچھا نظریہ ہے کیونکہ اس سے خواتین کو اس میدان میں موقع ملےگا جس پر مردوں کا تسلط رہا ہے لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو پائیں گے کہ یہ حکومت کی ایک چال ہے کیونکہ وہ مخالیفن کو مذہبی امور بھی میں کوئی موقع نہیں دینا چاہتے۔‘ لیکن اس بات کے بھی سراغ ملے ہیں کہ بعض مرشدات جسٹس اینڈ چیریٹی تنظیم کے مقاصد کو بھی صحیح بتاتی ہیں اور یہ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ خود حکومت ان کی حمایت کرتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں مراکش: مساجد میں خواتین مبلغ تعینات04 May, 2006 | آس پاس نماز جمعہ میں خاتون کی امامت18 March, 2005 | آس پاس عورتوں کے حقوق کے لئے جہاد پر زور28 October, 2005 | آس پاس مصر میں بڑھتا مذہبی رجحان09 May, 2006 | آس پاس برطانیہ میں مدرسے کی تلاشی ختم24 September, 2006 | آس پاس المحاکم الاسلامیہ کیسے بنی؟28 December, 2006 | آس پاس اسلام اور مغرب: رائے عامہ پُرامید19 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||