مراکش: مساجد میں خواتین مبلغ تعینات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مراکش میں پہلی مرتبہ پچاس خواتین کو باقاعدہ سرکاری مبلغ کے طور پر مساجد میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسلام کو ایک روادار مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ خواتین مساجد میں بنیادی اسلامی تعلیمات فراہم کریں گی۔ تاہم یہ جمعہ کی نماز کی امامت نہیں کریں گی اور یہ ذمہ داری مرد امام ہی ادا کرسکیں گے۔ کیسابلانکا میں 2003 کے خود کش بم حملوں کے بعد سے وہاں مشتبہ مسلم عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ ملک میں انسانی حقوق کے قواعد خصوصاً خواتین کے حقوق میں جدت لانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے جبکہ حکومت کی خواہش ہے کہ سخت گیر مسلمان بھی اس کی پالیسیوں سے مطمئن رہیں۔ مساجد میں دینی تعلیم دینے کے علاوہ یہ خواتین جیلوں، سکولوں اور ہسپتالوں میں بھی یہ فریضہ سرانجام دیں گی۔ 26 سالہ کریمہ ارجیلی کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیئے ایک بڑی ذمہ داری ہے اور وہ اس کے ذریعے اسلام کی ساکھ بہتر بنانا چاہتی ہیں تاکہ اسے ایک مزید روادار مذہب کے طور پر دیکھا جائے۔ تعینات کی گئی پچاس خواتین کی باقاعدہ گریجویشن کی تقریب منعقد کی گئی جس میں مراکش کے اسلامی امور کے وزیر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا: ’آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان بیرونی عوامل کی مداخلت کو روک سکیں جو ہماری مذہبی روایات اور قواعد کی خلاف ورزی کی کوشش کرتے ہیں۔‘ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مراکش کے معاشرے میں خواتین کا کردار دن بدن اہم ہوتا جارہا ہے اور اب کئی بڑے حکومتی عہدوں، عدلیہ اور وزارتوں پر بھی خواتین تعینات ہیں۔ دو سال قبل مراکش کے شاہ محمد نے ایک نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کے تحت خواتین کو شادی اور خاندان سے متعلق امور میں زیادہ حقوق حاصل ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کی حجاب کے حق میں مہم12 July, 2004 | صفحۂ اول اسقاط حمل کرانے والیوں کے لیے معافی 08 November, 2004 | صفحۂ اول حجاب کی وجہ سے نوکری چھوڑنی پڑی12 January, 2005 | صفحۂ اول ’حجاب جبر کی علامت نہیں ہے‘12 July, 2004 | صفحۂ اول جرم کس کا، سزا کس کو25 December, 2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||