اسلام اور مغرب: رائے عامہ پُرامید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس ممالک پر مشتمل رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان کشیدگیوں کی وجہ سیاسی طاقت اور مفادات کا تصادم ہے اور اس کا ثقافت اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ بی بی سی کے کمیشن کیے ہوئے اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں کی اکثریت اس تصور کو مسترد کرتی ہے کہ تہذیبوں کا ایک پرتشدد تصادم ناگزیر ہے۔ اکثریت کا خیال ہے کہ مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان اب بھی مشترکہ موقف تلاش کیا جا سکتا ہے۔ سروے میں چھپن فیصد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان مثبت رابطے ہیں۔ تاہم اٹھائیس فیصد رائے دہندگان کا خیال تھا کہ دونوں کے درمیان پر تشدد تصادم ناگزیر ہے۔ بی بی سی کے لیے یہ جائزہ گلوب سکین نامی ایک کمپنی نے مرتب کیا جس میں صرف نائجیریا کے بارے میں جہاں مسلمان اور مسیحی اکثر متحارب رہتے ہیں، رائے دہندگان کی اکثریت نے یہ کہا کہ مذہبی اور ثقافتی اختلافات دونوں گروہوں کے درمیان فساد کا باعث ہیں۔
جائزے کے مطابق اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب اور مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ سیاسی طاقت اور مفادات ہیں نا کہ ثقافت اور مذہب۔ گلوب سکین کے سربراہ نے کہا کہ جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا تہذیبوں کے وسیع اور ناگزیر تصادم کی طرف گامزن نہیں ہے۔ لبنان میں اٹھہتر فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ مغرب و مشرق میں کشیدگی کا سبب سیاسی ہے۔ انڈونیشیا میں جو مسلم آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے اکیاون فیصد افراد نے کہا کہ مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان تصادم ناگزیر ہے۔ رائے عامہ کے اس جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ رائے دہندگان کی اقلیت مسقتبل کے بارے میں قنوطیت کا شکار ہے۔ مغربی ممالک میں اٹلی سے اٹھہتر فیصد، برطانیہ سے ستتر فیصد اور کینیڈا سے تہتر فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان مشترکہ زمین تلاش کی جا سکتی ہے۔ انتالیس فیصد رائے دینے والوں نے کہا کہ دونوں طرف اکثریت نہیں بلکہ اقلیتوں کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہیے۔ اکثر کا کہنا تھا کہ اقلیتیوں میں عدم رواداری کے باعث فسادات اور اختلافات پھوٹتے ہیں۔ بارہ فیصد افراد نے کہا کہ اختلاف کی ذمہ دار مسلمانوں کی اکثریت کی بجائے اقلیت ہے جبکہ سات فیصد نے مغرب کی اقلیت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||