جدید اسلامی دنیا آرٹ کے رنگوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے برٹش میوزیم میں اسلامی ممالک سے جدید اسلامک آرٹ پر مبنی فن پارے نمائش کے لیئے پیش کیئے گئے ہیں۔ آرٹس آف ماڈرن مڈل ایسٹ‘ یا جدید مشرق وسطٰی کے فنون نامی اس نمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف فنکار عربی رسم الخط کو کس طرح اپنے فن پاروں میں استعمال کررہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ نمائش مشرق وسطٰی میں جدید فنون لطیفہ کی بہترین گائیڈ ہے۔برٹش میوزیم میں ہر زمانے اور دنیا کے ہر حصے کی نادر اشیاء موجود ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ اشیاء اپنے اندر دلچسپی لیئے ہوئے ہیں جب ہی تو ہر سال پانچ ملین سیاح ہر سال اس عجائب گھر کو دیکھنے آتے ہیں۔
اس میوزیم میں شوخ رنگوں کی کمی ہے اور لوگ اسے جدید آرٹ سے منسوب نہیں کرتے۔ لیکن 18 مئی سے دو ستمبر تک یہاں مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کے شوخ رنگ دیکھے جاسکیں گے۔ نمائش میں عراق سے الجیریا تک پھیلی اسلامی دنیا کے 80 جدید فن پارے رکھے گئے ہیں۔ برٹش میوزیم 1980 سے مشرق وسطٰی کے فن پاروں میں دلچسپی ظاہر کررہا ہے۔ اس نئی نمائش کے چار مختلف حصے ہیں۔ مقدس آیات پر مبنی عربی رسم الخط اور اسلام، ادب اور آرٹ، جدید فن میں عربی رسم الخط کا استعمال اور تاریخ اور سیاست کے حوالے سے تیار کیے گئے فن پارے۔
کچھ فن پاروں میں اسلامی دنیا پر مغربی طرز زندگی کے اثرات نمایاں ہیں۔ کچھ پینٹنگز میں عربی رسم الخط کے استعمال پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے مثلاً فرہاد موشری نے پانی کے جگ کی پینٹنگ میں عمر خیام کے اقوال کی لائنیں شامل کی ہیں۔ خسرو حسن زادہ نے اپنا پورٹریٹ بنایا ہے اور اس پر اپنے خیالات گرافیٹی کی شکل میں لکھے ہیں۔ فن پاروں میں سیاست کا رنگ بھی نمایاں ہے۔ صبا نعیم نے اپنے فن پارے میں انگریزی اور عربی اخبارات کے وہ ٹکڑے استعمال کیئے ہیں جن پر حالیہ بین الاقومی سفارتکاری کی خبریں ہیں۔ نعیم نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ روزمرہ زندگی میں عالمی سیاست کا کردارکتنا معمولی ہے۔ جدید اسلامی آرٹ کے بارے میں بہت کچھ واضح کرنے والی اس نمائش میں داخلہ مفت ہے اور یہ دو ستمبر تک جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں نادر تصاویر کی چوری24 October, 2003 | پاکستان پاکستانی مصور‘ لندن میں نمائش12 April, 2004 | فن فنکار پولک کی پینٹنگ ریکارڈ قیمت 13 May, 2004 | فن فنکار ممبئی: پاکستانی فن پاروں کی نمائش14 March, 2005 | فن فنکار تصاویر، روایت اور سیاست04 October, 2005 | فن فنکار ’میرے بعد میری محنت بچ جائے‘17 February, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||