BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2003, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نادر تصاویر کی چوری

صادقین کا ایک فن پارہ
صادقین کا ایک فن پارہ

کراچی میں ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی چھتیس قیمتی پینٹنگز کے مبینہ چوری اور اس ضمن میں ایک معروف مصورہ سمیت پانچ افراد کی گرفتاری نے پاکستان میں آرٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس واقعہ کو پاکستان کی تاریخ میں فنون لطیفہ کے شعبہ کی سب سے بڑی واردات کہا جا رہا ہے۔ چوری ہونے والی پینٹنگز میں پاکستان کے معروف ترین مصوروں عبدالرحمٰن چغتائی، صادقین، احمد پرویز ، جمیل نقش، اقبال مہدی اور دیگر مصوروں کے اصلی فن پارے شامل ہیں۔

معروف مصوروں کے نادر فن پارے جمع کرنے والے سلطان محمود کی اہلیہ تبسم محمود نے کراچی کے درخشاں تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ ان کے گھر سے چھتیس نادر اور قیمتی پینٹنگز چرالی گئی ہیں جن کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے۔

فن پارے ردی کے ڈھیر میں
درخشاں تھانے کے ایک کمرے میں مشہور مصوروں کی وہ پینٹنگز جو پولیس برآمد کی ہیں، فرش پر پڑی ہیں۔ ان میں صرف پانچ فن پارے فریم میں ہیں باقی تصاویر ردی کی طرح ایک کونے میں ڈھیر ہیں۔

پولیس نے گھر کے ملازمین سے کڑی تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ منظور نامی ایک کارکن نے وہ پینٹنگز اپنے ساتھیوں کی مدد سے چرائی تھیں اور انہیں فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ملزمان نے بتایا کہ چند تصاویر ایک آرٹ گیلری کو بھی دی گئی تھیں۔

ملزم منظور کے ہمراہ پولیس نے کراچی کے چار علاقوں دہلی کالونی، فرئیر ٹاؤن، باتھ آئی لینڈ اور توحید کمرشل ایریا میں چھاپے مار کر بیس مسروقہ پینٹنگز برآمد کر لیں اور پانچ افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان میں جہاں زیب آرٹ گیلری کے مالک ، معروف مصور اقبال درانی بھی شامل تھے جن پر مسروقہ پینٹنگز خریدنے کاالزام ہے۔

درخشان تھانے کے انچارج قیصر علی شاہ نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ تازہ چھاپوں میں مزید چارپینٹنگز برآمد کر لی گئی ہیں۔ ان میں چغتائی کا ایک بے حد قیمتی فن پارہ بھی شامل ہے۔

اقبال درانی
معروف مصور اقبال درانی پر مسروقہ پینٹنگز خریدنے کاالزام ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سات مسروقہ پینٹنگز اقبال درانی کی آرٹ گیلری سے ملی ہیں جبکہ باقی فن پارے ملزم منظور اور اس کے ساتھیوں کے پاس تھے۔

مصور اقبال درانی نے بی بی سی آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ سات پینٹنگز ملزم منظور سے لی تھیں جوتبسم محمود کا برسوں پرانا کارکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم منظور اس سے پہلے بھی تیسم محمود کے ذخیرہ میں موجود نادر تصاویر فروخت کرنے کے لئے لاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ منظور اس بار مسروقہ پینٹنگز فروخت کرنے کے لیے لا رہا ہے۔

 ’ستائیس برس تک فن کی خدمت کرنے کے بعد میں بالکل خالی ہاتھ رہ گیا ہوں۔ میری شہرت، میرا نام سب کچھ برباد کردیا گیا ہے۔ مجھے اب عدالت سے باعزت رہائی نہیں، کھوئی ہوئی عزت چاہئے‘

اقبال درانی

اقبال درانی کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک عام دیانت دارانہ سودا تھا اور اس لیے انہوں نے پورے اعتماد سے یہ پینٹنگز اپنی گیلری میں فروخت کے لیے آویزاں کر دی تھیں۔

تفتیشی سب انسپکٹر عبدالغفار کورائی نے بتایا کہ ملزم منظور اور اس کے ساتھیوں سے برآمد ہونے والے نادر فن پاروں میں لینڈ اسکیپس، پورٹریٹس اور خطاطی کے نمونے شامل ہیں۔

اقبال درانی کاکہنا ہے ’باعزت رہائی نہیں، کھوئی ہوئی عزت چاہئے‘۔ درخشاں پولیس سٹیشن اقبال درانی ایک بے حد تلخ آدمی نظر آرہے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’ستائیس برس تک فن کی خدمت کرنے کے بعد میں بالکل خالی ہاتھ رہ گیا ہوں۔ میری شہرت، میرا نام سب کچھ برباد کردیا گیا ہے۔ مجھے اب عدالت سے باعزت رہائی نہیں، کھوئی ہوئی عزت چاہئے‘۔

درخشاں تھانے کے ایک کمرے میں مشہور مصوروں کی وہ پینٹنگز جو پولیس برآمد کی ہیں، فرش پر پڑی ہیں۔ ان میں صرف پانچ فن پارے فریم میں ہیں باقی تصاویر ردی کی طرح ایک کونے میں ڈھیر ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد