BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 07:18 GMT 12:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجمیر: قطرینہ کی اسکرٹ سے تنازعہ

قطرینہ اور رشی کپور فلم ’نمستے لندن‘ کی شوٹنگ کیلیئے اجمیر آئے ہوئے تھے
فلم سٹار قطرینہ کیف اپنی ذاتی زندگی میں عمومًا اسکرٹ پہنتی ہیں لیکن جب وہ یہی اسکرٹ پہن کرصوفی خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر زیارت کے لیئے گئیں تو ان کے لباس کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔

یہ تنازعہ اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ درگاہ کمیٹی قطرینہ کیف کے خلاف کیس درج کرنے پر غور کر رہی ہے۔

درگاہ انتظامیہ کا الزام ہے کہ قطرینہ ان کی معلومات کے بغیر درگاہ میں اسکرٹ پہن کر زیارت کے لیئے آئیں تھیں جو کہ درگاہ کے اصول کے خلاف ہے۔ درگاہ کمیٹی کے خدام اور سجادہ نشینوں نے قطرینہ کے لباس کی زبردست مذمت کی ہے۔

درگاہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ قطرینہ کو درگاہ میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لباس کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ قطرینہ کےساتھ فلم اداکار رشی کپور بھی تھے۔ قطرینہ اور رشی کپور وپل شاہ کی فلم ’نمستے لندن‘ کی شوٹنگ کے لیئے اجمیر آئے ہوئے تھے۔

گزشتہ ہفتے اس فلم کے بعض مناظر خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں شوٹ کیے گئے تھے۔

درگاہ کے ناظم عبدالعلیم کا کہنا ہے کہ وپل شاہ نے درگاہ میں شوٹنگ کرنے کی انتظامیہ سے اجازت نہیں لی۔ درگاہ میں سنہ 1986 سے شوٹنگ پر پابندی عائد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے لباس پہن کر درگاہ میں کوئی نہ آئے۔

 وپل شاہ نے درگاہ میں شوٹنگ کرنے کی انتظامیہ سے اجازت نہیں لی۔ درگاہ میں سنہ 1986 سے شوٹنگ پر پابندی عائد ہے
درگاہ کے ناظم عبدالعلیم

درگاہ کے ایک خادم ایف ایس حسن کا کہنا ہے کہ قطرینہ کو زیارت پر جانے سے پہلے مناسب لباس پہننا چاہیے تھا۔ قطرینہ نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اس سے درگاہ کا روحانی ماحول پراگندہ ہوا ہے۔

لیکن فلم کے ہدایت کار وپل شاہ کا کہنا ہے کہ فلم کی شوٹنگ سے پہلے انہوں نے قطرینہ کے کپڑوں کے بارے میں درگاہ انتظامیہ کو بتایا تھا اور انتظامیہ نے ان سے کہا تھا کہ قطرینہ کچھ بھی پہنیں لیکن ان کا سر ڈھکا ہوا ہونا ضروری ہے۔

وپل شاہ نے مزید کہا کہ اگر ان کی فلم کے بعض مناظر سے درگاہ انتظامیہ اور کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ فلم سے وہ مناظر کاٹنے کے لیئے تیار ہیں۔

قطرینہ اور دیگر فلمی ستارے درگاہ میں زیارت کرانے والے خادموں کے ساتھ تھے۔ ان فلمی ستاروں نے درگاہ کی انتظامیہ کو بتایا کہ انہیں اس بارے میں کسی خادم نہیں بتایا تھا۔

خادموں کی انجمن کے ترجمان سرور چشتی کا خیال ہے کہ تنازعہ کی کوئی بات نہیں ہے لیکن درگاہ میں داخل ہونے والوں کو وہاں کے لیئے مناسب لباس کے دستور کا خود خیال کرنا چاہیے۔ درگاہ کمیٹی کا کہنا ہے اس دن چھٹی تھی اس لیئے درگاہ انتظامیہ کا کوئی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔

اس سے پہلے پاکستانی گلوکار ماریا بلوچ کے صوفیانہ کلام کےذریعہ عبادت کرنے پر تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ ماریہ کو موسیقی کے ذریعے نذرانہ پیش کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس وقت یہ اعتراض کیا گیاتھا کہ خواتین کو مزار پر گانے کی اجازت نہیں ہے وہاں صرف مرد ہی گا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد