’نظام الدین اولیاء درگاہ کے نذرانے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارالحکومت دلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق کرڑوں روپے نذ رانوں میں دیتے ہیں لیکن اتنی بڑی رقم کہاں خرچ ہوتی ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔ اس رقم کا حساب کتاب رکھنے کے لیے دلی ہائی کورٹ نے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں دلی وقف بورڈ کے تین اور درگاہ کمیٹی کے تین ارکان کے علاوہ ایک وکیل بھی شامل ہیں۔ عدالت نے یہ حکم مفاد عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد دیا ہے۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سارا پیسہ درگاہ کے چند افراد کے تصرف میں رہتا ہے اور درگاہ کی ترقی و زائرین کی سہولیات کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا۔ درخواست گزار طاہر صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’درگاہ پر روزانہ تقریبا دس ہزار روپے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک سے جو چیکس اور بنک ڈرافٹ آتے ہیں ان کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ ہم نے عدالت سے یہی کہا ہے کہ سارے پیسہ کا حساب کیا جائے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر عقیدت مند مرادیں لے کر آتے ہیں اور جھولی بھرنے کے بعد یہ عقیدت مند درگاہ پر دل کھول کر نذرانہ چڑھاتے ہیں۔ یہ نذرانے نقدی، سونا اور چاندی کے زیورات سے لے کر مہنگے تحفے تحائف کی شکل تک میں ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’درگاہ کو ملنے والی امدادی رقم کا اگر صحیح استمعال کیا جائے تو ہزاروں غریب طلبا کو تعلیم فراہم کی جا سکتی ہے اور بہت سے سماجی کام کیئے جا سکتے ہیں‘۔ دلی وقف بورڈ کا بھی کہنا ہے کہ درگاہ کے پیسوں کا حساب ہونا چاہیئے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سماج کی فلاح پر خرچ ہونی چاہيے۔ بورڈ کے چئیرمین چودھری متین احمد کا کہنا تھا: ’ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ درگاہ کی کل آمدنی کا پچاس فی صد سجادہ نشینوں کو دیا جائے گا اور باقی پچاس فی صد غریب طلباء، ضرورت مند بیواؤں اور درگاہ کی دیکھ بھال پر خرچ ہوگا‘۔ دوسری طرف درگاہ کی انتظامیہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہے۔ سجادہ نشین سید عزیز نظامی کا کہنا ہے کہ درگاہ کے پیسوں پر ان کا حق ہے۔ ’جو شخص درگاہ شریف کے لیئے نذر و نیاز دیتا ہے وہ درگاہ کے لیئے ہوتا ہے نہ کہ باہر کے لیئے کہ ہم درگاہ سے باہر یہ پیسہ خرچ کریں‘۔ انہوں نے مزید کہا ہے درگاہ کے پیسے پر ان کا حق ہے اور وہ عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔ صدیوں پرانی درگاہ کے آس پاس کی تنگ و تاریک گلیاں، کچی سڑکیں، آس پاس کوڑے کے ڈھیر اور خستہ حالت مسافر خانوں کو دیکھ کر یہاں آنے والے عقیدت مند یہ سوال پوچھتے ہیں کہ درگاہ پر آنے والا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ باہر سے آنے والی ایک عقیدت مند سیما کا کہنا تھا: ’یہاں بہت گندگی ہے۔ مسافروں کے لیئے یہاں رہنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ رات کو اگر یہاں رکنا ہو تو رک نہیں سکتے‘۔ اتر پردیش سے آئے محمد سلیم کا کہنا تھا کہ ’درگاہ پر جتنی سہولت ملنی چاہیئے اتنی نہیں ہے۔ اگر یہاں 100 روپے آتے ہیں تو درگاہ پر صرف چالیس روپے ہی خرچ ہوتے ہیں۔ باقی پیسہ کہاں جاتا ہے کسی کو کچھ نہیں پتہ ہے‘۔
ہائی کورٹ نے اس سے پہلے سن دو ہزار چار میں ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں وقف بورڈ اور درگاہ کمیٹی کے ارکان شامل تھے لیکن وہ کمیٹی موثر کاروائی کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور نئی کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ اپنی عبوری رپورٹ آٹھ ہفتے کے اندر عدالت کو پیش کرے۔ | اسی بارے میں ’مجھے اجمیر جانا ہے‘18 February, 2006 | پاکستان پہلی فلم: میرا اجمیر جائیں گی 06 May, 2005 | فن فنکار رائندگانِ درگاہِ خواجہ غریب نواز21.12.2002 | صفحۂ اول مزار کہانی: ’چرس، ملنگوں والا نشہ‘12 July, 2004 | Blog مزار کہانی: ’کیل ٹھونکو تو دانت کی تکلیف ختم‘09 July, 2004 | Blog مزار کہانی: ’ملنگوں کی صحبت‘08 July, 2004 | Blog اجمیر میں شبیہ ؟01.04.2002 | صفحۂ اول اجمیر شریف کِسےووٹ دےگا؟18 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||