BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 July, 2007, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیگ کی نیلامی ڈیڑھ کروڑ میں

درگاہ
درگاہ پر ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند جاضری دیتے ہیں
اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کے مزار میں مغلیہ دور کی تاریخی دیگوں میں صرف پندرہ روز کھانا پکانے کا ٹھیکہ تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے میں دیا گیا ہے۔

ان دیگوں میں زائرین کے لیے تبرک پکتا ہے اور عقیدت مند اس کے لیے نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ٹھیکہ خادمین کے ایک گروپ نے حاصل کیا ہے۔
خادموں نے ٹھیکہ بولی کے ذریعہ حاصل کیا ہے جو صرف عرس کے پندرہ دنوں کے لیے ہے۔

خادموں کی انجمن کے ترجمان سرور چشتی نے بی بی سی کو بتایا کہ دیگوں کے ٹھیکے کے لیے یہ اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’دیگ سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال فلاحی کاموں کے لیے کیا جا تا ہے۔‘

خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر مغلیہ دور کی دو دیگیں ہیں۔ ایک بادشاہ اکبر نے 1567 میں بطور نذرانہ پیش کی تھی اور دوسری بادشاہ جہانگیر نے 1613 میں تحفے میں دی تھی۔ یہ دونوں دیگیں اتنی بڑی ہیں کہ ایک میں تقریبا پانچ ہزار لوگوں کا کھانا پک سکتا ہے اور چھوٹی میں تقریبا ڈھائی ہزار کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔

بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو، صدر مشرف اور جنرل ضیاالحق سبھی یہاں حاضری دے چکے ہیں

اس کی نیلامی تقریباً اکیس گھنٹوں تک چلی اور بالآخر حاجی ضیاء الدین کے گروپ نے ایک کروڑ اکتالیس لاکھ اکیاون ہزار روپے میں اسے حاصل کیا۔

عرس کے دوران لاکھوں لوگ مزار کی زیارت کرتے ہیں۔ زائرین ان دیگوں میں پکے کھانے کو تبرک یا نیاز کے طور پر کھاتے ہیں اور چونکہ عقیدت مند سبھی طبقے کے لوگ ہوتے ہیں اس لیے اس بات کا خیال رکھا جا تا ہے کہ اس میں گوشت نہ پکایا جائے۔

زائرین نذرانہ کے طور پر دیگ میں پیسہ، زیورات، اور قیمتی اشیاء ڈالتے ہیں۔ عرس کے دوران یہ سلسلہ رات دن جاری رہتا ہے۔

عرس کے دوران پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی

کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ اکبر نے چتّوڑ کو فتح کرنے کے لیے مزار پر منت مانگی تھی اور فتح کے بعد وہ خود ننگے پیروں چل کر مزار پر آئے تھے۔ اکبر نے دیگ غریب زائرین کو کھانا کھلانے کے لیے پیش کی تھی لیکن آج یہ روایت پوری طرح بدل چکی ہے۔ اب کھانا کھانے والے لوگ وہاں بیش بہا قیمتی نذرانے پیش کرتے ہیں۔

اکبر کی بڑی دیگ بلند دروازہ پر ہے جس میں تقریباً ساڑھے چار کوئنٹل چاول پک جاتا ہے۔ جہانگیر کی دیگ چھوٹی ہے جس میں سوا دو کوئنٹل چاول پکنے کی گنجائش ہے۔

اکبر کی دیگ کو اب مرمت کی ضرورت ہے اور درگاہ کی انتظامیہ کمیٹی نے اس کے لیے آٹھ لاکھ روپیے مختص کیے ہیں۔ احمد رضا نظامی نے بتایا کہ کئی ماہر کاری گروں نے دیگ کا معائنہ کیا ہے اور جلدی ہی اس کی مرمت ہو جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد