جے پور میں سات دھماکے،ساٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست راجستھان کے حکام نے جے پور میں منگل کی شام یکے بعد دیگرے ہونے والے سات دھماکوں میں ساٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ ریاست جے پور کے سیکرٹری داخلہ وی ایس سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد اب بڑھ کر ساٹھ تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل راجستھان کے ڈائریکٹر جنرل پولیس نے پینتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ وی ایس سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دھماکوں میں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ’ریپڈ ایکشن فورس‘ کی دو کمپنیاں ریاست میں پہنچ گئی ہیں جبکہ انہوں نے مرکزی حکومت سے مزید چار کمپنیاں بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ ریاست کی وزیراعلی وجے راجے سندھیا دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کوایک ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً ساڑھے سات بجے ہوئے اور ان کا نشانہ مانس چوک، بڑی چوپال، چھوٹی چوپال، جوہری بازار اور ترپیولی بازار کا علاقہ بنا۔ تمام دھماکے ایسے مقامات پر ہوئے جو بہت پرہجوم علاقے ہیں اور جہاں بڑی تعداد ميں مقامی لوگ اور سیاح خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد گاڑیوں اور دکانوں میں رکھا گیا تھا جو ایسے مقامات پر پھٹا جو تاریخی اعتبار سے بڑی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ ایک دھماکہ ’ہوا محل‘ کے قریب ہوا۔ ہنومان مندر کے پاس بھی ایک دھماکہ ہوا جہاں منگل کا دن ہونے کی وجہ سے بہت بھیڑ تھی۔دھماکوں کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ شری پرکاش جیسوال کے مطابق دلی، ممبئی سمیت سبھی بڑے شہروں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گيا ہے۔ انہوں نے ان دھماکوں کو ایک بڑی سازش قرار دیا ہے۔راجستھان کے آئی جی کہنیا لال نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ تاحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کس گروہ کا کام ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی اور دیگر کئی رہنماؤں نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ جے پور جسے’گلابی شہر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے بھارتی ریاست راجستھان کا اہم سیاحتی مقام ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاست راجستھان میں بم دھماکوں کا واقعہ پیش آیا ہو اور اس سے قبل ریاست میں گزشتہ برس اکتوبر میں اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں دو دھماکے ہوئے تھے جس میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا جے پور میں سات دھماکے: 45 ہلاک، درجنوں زخمی13 May, 2008 | انڈیا اجمیردھماکہ، تفتیش میں پیش رفت13 October, 2007 | انڈیا اجمیر دھماکے کی تفتیش جاری12 October, 2007 | انڈیا لدھیانہ میں بم دھماکہ، چھ ہلاک14 October, 2007 | انڈیا اجمیر: مشتبہ افراد کے خاکے جاری23 October, 2007 | انڈیا آسام دھماکہ: پانچ ہلاک، پچاس زخمی16 March, 2008 | انڈیا سرینگر دھماکہ، ایک ہلاک19 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||