BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 September, 2007, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں:دھماکوں کے ایک سال بعد

مالیگاؤں
مالیگاؤں میں لوگ یومِ سیاہ منا رہے ہیں
انڈیا کےشہر مالیگاؤں میں آٹھ ستمبرکو ہوئے بم دھماکوں کوایک سال ہوگيا ہے۔ مالیگاؤں کےعوام اس دن کو یوم سیاہ کے طور پرمنا رہے ہیں، پولیس نےشہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجے پاٹل نے بتایا کہ شہر میں حالات کو پرامن رکھنے کے لیے کل جماعتی تنظیم کےممبران کےساتھ میٹنگ کی گئي ہے اور ممبران نے شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

پاٹل کے مطابق حساس علاقوں میں پولیس تعنیات کردی گئی ہے۔ شہر میں اضافی پولیس فورس کےساتھ بم سکواڈ اور سپیشل سکواڈ طلب کیےگئے ہیں جو ہرطرح کےحالات اور واقعات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

مالیگاؤں میں آٹھ سمتبر کو بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں چار دھماکے ہوئے تھے۔

مالیگاؤں کے یہ دھماکے ممبئی میں گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکوں کے دو ماہ سے بھی کم عرصہ میں ہوئے۔ پولیس اور انسداد دہشت گرد سکواڈ کی تفتیش کے مطابق ان دھماکوں میں جن بموں کا استعمال کیا گیا تھا ان میں آر ڈی ایکس، امونیم نائٹریٹ اور آئل شامل تھا۔

بارہ سمتبر کومالیگاؤں کی ہی محمدیہ مسجد سے پولیس نے ایک بم برآمد کیا۔ پولیس نے اس کیس میں سیمی کےایک رکن نورالہدی کوگرفتار کیا۔ نور ممبئی ٹرین بم دھماکوں کےملزم محمد علی کا بھتیجا بھی ہے۔

مالیگاؤں
ان دھماکوں میں 43 افراد ہلاک اور سو زخمی ہوئے تھے

پولیس نے پہلے اسے مشتبہ ملزم کے طور پر حراست میں لیا بعد میں اسے مالیگاؤں کے بڑے قبرستان میں بم نصب کرنے کا ملزم قرار دیا گیا۔

اس کے بعد پولس نے شبیر بیٹری والا کو بم دھماکہ کی سازش، رئیس کو بڑا قبرستان میں بم نصب کرنے، گوونڈی ( ممبئی ) کے یونانی ڈاکٹر سلمان فارسی اور ڈاکٹر فروغ مخدومی کو بم دھماکہ کی سازش کرنے، ممبئی کے محمد علی اور جلگاؤں کےسول انجینئر آصف بشیرخان عرف جنید کو آر ڈی ایکس سپلائی کرنے اوریوت مال کے پیش امام محمد زاہد عبدالحمید کو مشاورت چوک میں بم نصب کرنے کا ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا۔

اے ٹی ایس نے ملزم ابرار سعید کو بھی مشاورت چوک میں بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا لیکن سعید بعد میں پولیس کےگواہ بن گئے۔اے ٹی ایس نے دسمبر میں ملزمین کےخلاف عدالت میں فرد جرم داخل کی۔

ان گرفتاریوں سے ناخوش مقامی افراد نے مہاراشٹر کے وزیراعلٰی اور مرکزی کانگریس حکومت پر یہ کیس سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی) کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ،حکومت نے یہ کیس اب سی بی آئی کے حوالے کردیا ہے۔

سی بی آئی افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کیس کے مزید چار ملزمان ابھی بھی فرار ہیں۔جن میں سے تین مشتاق، منور اور ریاض احمد ہندستانی ہیں جبکہ ایک پاکستانی شہری مزمل ہے ۔ان سب کی تلاش جاری ہے‘۔

مالیگاؤں کےعوام ابھی بھی سی بی آئی تفتیش اور حکومت کےرویہ سے ناخوش ہیں اور اسی لیے انہوں نے یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مالیگاؤں کے شہری احمد عثمانی کا کہنا ہے کہ عوام حکومت سے ناخوش ہیں کیونکہ اتنی جدوجہد کے بعد بھی جب کیس سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تو سی بی آئی نے نئے سرے سے تفتیش ہی نہیں کی اور یہاں عوام کا ماننا ہے کہ جو اس کیس میں گرفتار ہوئے ہیں وہ بے قصور ہیں۔’ اب یہاں لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔یہاں کے ہندو بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پولیس نے بے قصوروں کو پکڑ لیا ہے‘۔

مالیگاؤں
مقامی افراد ان دھماکوں کے سلسلے میں ہونے والی گرفتاریوں سے نہ خوش ہیں

مالیگاؤں میں تمام مسلک کو ماننے والوں نے ایک کل جماعتی تنظیم کی تشکیل کی ہے۔اس تنظیم کے صدر مولانا عبدالحمید ازہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت چوک پر تمام مسلک اور مکتبہ فکر کے لوگ جمع ہوں گے۔

اس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی شامل رہیں گے ’دراصل ہم حکومت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کیس کی تفتیش سے خوش نہیں ہیں کیونکہ سی بی آئی نے بھی اپنے طور پر شروع سے تفتیش نہیں کی بلکہ اس نے اے ٹی ایس کی طرز کو ہی اپنایا،اس کے علاوہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کم سے کم مہاراشٹر کا مسلمان مسجد اور قبرستان میں بم دھماکہ نہیں کر سکتا‘۔

کل جماعتی تنظیم نے حکومت کو میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت بم دھماکے کے اصل مجرمین کوگرفتار کرے۔

اس کے علاوہ ممبئی اور حیدرآباد میں جس طرح بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو پانچ لاکھ اور سات لاکھ روپیہ معاوضہ دیا گیا ہے اسی طرح مالیگاؤں بم دھماکے کے ہلاک شدگان کے ورثاء کو بھی معاوضہ دیا جائے۔حکومت نے یہاں کے مہلوکین کو ایک لاکھ روپے ادا کیے تھے جسے پانچہلاک شدگان کے ورثاء نے لوٹا دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد