مالیگاؤں دھماکے: احتجاج کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے پاور لوم صنعت کے لیے مشہور شہر مالیگاؤں میں مسلمانوں کی گرفتاری کے خلاف مسلمان تنظیموں نے یوم سیاہ منانے اور مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی فورم تنظیم کے بینر تلے مہاراشٹر میں مسلمانوں کی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کے روز مالیگاؤں کے مسلمان بڑا قبرستان میں یوم سیاہ منائیں گے اور چودہ نومبر کے روز مالیگاؤں، ناگپور، امراؤتی، بیڑ، آکولہ، اورنگ آباد، ناسک، جلگاؤں میں لوگ خاموش احتجاج کریں گے، دھرنے دیں گے اور مقامی کلکٹر کو میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔ میٹنگ میں موجود مہاراشٹر جمعیت العلماء کے سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس احتجاج اور دھرنے کے علاوہ فورم کے وکلاء بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کریں گے۔ مولانا مستقیم کے مطابق پولس جان بوجھ کر تعلیم یافتہ دیندار مسلمانوں کو گرفتار کرر ہی ہے جن کا قصور یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سیمی کے کبھی یا تو رکن تھے یا سیمی سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے رشتہ دار ہیں۔ مولانا مستقیم نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولس جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ اگر دھماکہ خیز اشیاء ہندؤں کے گھر سے برآمد ہوتی ہے تو پولیس اسے یہ کہہ کر بری کر دیتی ہے کہ وہ تو پٹاخہ بنانے یا چٹان اڑانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا لیکن اگر وہی اشیاء کسی مسلمان کے گھر سے برآمد ہوتی ہے تو پولیس اسے دہشت گرد قرار دیتی ہے۔ مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس بے قصور شہریوں کو گرفتار کر رہی ہے جبکہ پولیس کے پاس گرفتار ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت بھی نہیں ہیں۔ مالیگاؤں کے عوام میں ان گرفتاریوں کی وجہ سے کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔مالیگاؤں میں ’مولانا آزاد سینٹر ‘ کے چیرمین مولانا ازہری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولس چند بے قصور، بے گناہ، دینی ذہنیت رکھنے والے افراد کو گرفتار کر کے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ مولانا کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان سے احتجاج کرنے کا جمہوری حق بھی چھین لیا ہے اس لئے مالیگاؤں کے بڑا قبرستان میں جہاں آٹھ سمتبر کو بم دھماکے ہوئے تھے ، جمعہ کی نماز کے دوران لوگ منہ پر سیاہ کپڑا لپیٹ کر خاموش احتجاج کریں گے اور یہ احتجاج عصر کی نماز تک جاری رہے گا۔ مولانا نے کہا کہ انہیں حکومت پر اب بھروسہ نہیں رہا کیونکہ دھماکوں کے ایک ہفتہ بعد انہوں نے آٹھ ممبران اسمبلی کے ساتھ وزیر اعلی سے ملاقات کی تھی جنہوں نے یقین دلایا تھا کہ بے قصوروں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا لیکن وزیر اعلی اپنے وعدے پر عمل درآمد نہیں کروا سکے۔ مولانا کا دعوی ہے کہ گرفتار مسلمان بے گناہ ہیں جبکہ پولیس کے پاس سائیکل خریدنے والے کے نام موجود ہیں جس پر بم نصب کیے گئے تھے لیکن پولیس ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ انسداد دہشت گرد عملہ کے سربراہ کے پی رگھوونشی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پر بے قصور مسلمانوں کو گرفتار کرنے کے محض الزامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس گرفتار ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں انہوں نے کہا کہ یہ تمام ملزمین کبھی نہ کبھی یا تو پاکستان جا چکے ہیں یا ان کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے رہا ہے۔ مسٹر رگھوونشی نے کہا کہ گیارہ جولائی ٹرین دھماکوں اور مالیگاؤں بم دھماکوں میں ایک تعلق ہے اور اسی لئے ان دھماکوں میں بھی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آرہا ہے۔ گیارہ جولائی بم دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے ایک یونانی ڈاکٹر سمیت اب تک انیس افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ مالیگاؤں بم دھماکوں میں پولس نے دو یونانی ڈاکٹروں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ |
اسی بارے میں مالیگاؤں: دھماکوں کے پیچھے کون؟11 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں میں حالات بدستور کشیدہ10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے:43 ہلاک، سو زخمی09 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||