مالیگاؤں دھماکے، ایک شخص گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں مالیگاؤں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نور الہدی کو وہاں کی مقامی عدالت نے تین نومبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مالیگاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پردھان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ مہاراشٹر انسداد دہشت گرد عملہ (اے ٹی ایس) نورالہدی کو لے کر ممبئی روانہ ہو چکا ہے اور ملزم کو انہیں کی تحویل میں رکھا جائے گا۔ نورالہدی کو آٹھ ستمبر کے روز قبرستان میں بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شب برات کے روز جمعہ کی نماز کے بعد ہی مالیگاؤں بڑا قبرستان میں دھماکے ہوئے تھے جس میں اڑتیس سے زائد افراد ہلاک اور دو سے سو زائد زخمی ہوئے تھے۔
ملزم نور بیٹری کے جس کارخانہ میں کام کرتا ہے اس کے مالک شبیر کو اے ٹی ایس عملہ نے ممبئی ٹرین بم دھماکوں کی تفتیش کے لئے حراست میں لیا تھا۔ شبیر بھی سیمی کا رکن ہے۔ شبیر کے ہی کارخانے میں نور کے علاوہ رئیس احمد اور ابرار احمد کام کرتے ہیں۔پولیس نے نور کے بعد رئیس کو بھی محمدیہ مدرسہ میں نقلی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن مفرور ابرار کی تلاش جاری ہے۔ پولس کو مالیگاؤں بم دھماکوں کے چند روز بعد ہی مالیگاؤں میں واقع محمدیہ مدرسہ میں نقلی بم ملے تھے اور پولس اس کی بھی تفتیش کر رہی تھی۔ ملزم کے وکیل شبیر کاردار نے بی بی سی کو بتایا کہ اے ٹی ایس عملہ نے ملزم کو پہلے سیمی کے سرگرم رکن ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا لیکن بعد میں انہیں محمدیہ مسجد میں نقلی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد پولیس نے عدالت سے ان کے موکل کے برین میپنگ ٹیسٹ کی اجازت لی تھی۔ ایڈوکیٹ کاردار کے مطابق آج ان کے مؤکل کی پولیس حراست ختم ہو چکی تھی کہ انہیں پتہ چلا کہ اے ٹی ایس نے ان کے مؤکل کو مالیگاؤں بم دھماکہ میں ملوث بتا دیا۔ ایڈوکیٹ کاردار کا دعوی ہے کہ ان کا موکل بے گناہ ہے۔ اے ٹی ایس عملہ کے ایک سینئر پولس افسر کے مطابق ملزم کے خلاف مالیگاؤں بم دھماکہ کے پختہ ثبوت موجود ہیں۔ | اسی بارے میں مالیگاؤں: دھماکوں کے پیچھے کون؟11 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے: چشمدیدوں کی نظر سے09 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: مطلوب افراد کے خاکے10 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: 4 ملزمان کا اقبال جرم 26 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||