BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 October, 2006, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں دھماکے، ایک شخص گرفتار

پولیس کو مطلوب ایک شخص کا خاکہ
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں مالیگاؤں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نور الہدی کو وہاں کی مقامی عدالت نے تین نومبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

مالیگاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پردھان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ مہاراشٹر انسداد دہشت گرد عملہ (اے ٹی ایس) نورالہدی کو لے کر ممبئی روانہ ہو چکا ہے اور ملزم کو انہیں کی تحویل میں رکھا جائے گا۔

نورالہدی کو آٹھ ستمبر کے روز قبرستان میں بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شب برات کے روز جمعہ کی نماز کے بعد ہی مالیگاؤں بڑا قبرستان میں دھماکے ہوئے تھے جس میں اڑتیس سے زائد افراد ہلاک اور دو سے سو زائد زخمی ہوئے تھے۔

محض الزامات کی تبدیلی؟
 ملزم کے وکیل شبیر کاردار نے بی بی سی کو بتایا کہ اے ٹی ایس عملہ نے ملزم کو پہلے سیمی کے سرگرم رکن ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا لیکن بعد میں انہیں محمدیہ مسجد میں نقلی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد پولیس نے عدالت سے ان کے موکل کے برین میپنگ ٹیسٹ کی اجازت لی تھی۔
نورالہدی تئیس سالہ نوجوان ہے جو وہاں بیٹری کے کارخانہ میں کام کرتا ہے۔ مالیگاؤں پولیس نے اسے سب سے پہلے آٹھ اکتوبر کو غیرقانونی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ نورالہدی اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی ) کا رکن ہے۔

ملزم نور بیٹری کے جس کارخانہ میں کام کرتا ہے اس کے مالک شبیر کو اے ٹی ایس عملہ نے ممبئی ٹرین بم دھماکوں کی تفتیش کے لئے حراست میں لیا تھا۔ شبیر بھی سیمی کا رکن ہے۔

شبیر کے ہی کارخانے میں نور کے علاوہ رئیس احمد اور ابرار احمد کام کرتے ہیں۔پولیس نے نور کے بعد رئیس کو بھی محمدیہ مدرسہ میں نقلی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن مفرور ابرار کی تلاش جاری ہے۔

پولس کو مالیگاؤں بم دھماکوں کے چند روز بعد ہی مالیگاؤں میں واقع محمدیہ مدرسہ میں نقلی بم ملے تھے اور پولس اس کی بھی تفتیش کر رہی تھی۔

ملزم کے وکیل شبیر کاردار نے بی بی سی کو بتایا کہ اے ٹی ایس عملہ نے ملزم کو پہلے سیمی کے سرگرم رکن ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا لیکن بعد میں انہیں محمدیہ مسجد میں نقلی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد پولیس نے عدالت سے ان کے موکل کے برین میپنگ ٹیسٹ کی اجازت لی تھی۔

ایڈوکیٹ کاردار کے مطابق آج ان کے مؤکل کی پولیس حراست ختم ہو چکی تھی کہ انہیں پتہ چلا کہ اے ٹی ایس نے ان کے مؤکل کو مالیگاؤں بم دھماکہ میں ملوث بتا دیا۔ ایڈوکیٹ کاردار کا دعوی ہے کہ ان کا موکل بے گناہ ہے۔

اے ٹی ایس عملہ کے ایک سینئر پولس افسر کے مطابق ملزم کے خلاف مالیگاؤں بم دھماکہ کے پختہ ثبوت موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد