BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 June, 2007, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سنگینوں کے سائے میں میئر الیکشن

مالیگاؤں
عوام کی ناراضگی برقرار ہے کیونکہ وہ کسی بھی حالت میں کانگریس کے ساتھ تیسرے محاذ کے اشتراک کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں جمعہ کو بندوقوں کے سائے میں میئر کا انتخاب عمل میں آیاہے۔ بلدیہ کے نو منتخب ممبران نے سخت سکیورٹی میں انڈین مسلم کانگریس کے نجم الدین کھجور والے کو میئر اور کانگریس کے سکھا رام گوڈ کے کو ڈپٹی میئر منتخب کیا ہے۔

عوام میں نارضگی کے مدنظر پولیس نے پورے علاقہ میں حکم امتناعی نافذ کر دیا تھا۔ اس کے لیے مقامی پولیس کے علاوہ ریاستی ریزرو اور سریع الحرکت فورس کی نفری جگہ جگہ موجود تھی۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جے وردھنے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حالات صحیح ہیں اور میئر کے انتخابات کسی گڑ بڑ کے بغیر ہو چکے ہیں لیکن ابھی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ رہے گی‘۔

ماحول پُرسکون، ناراضگی برقرار
 ماحول پرسکون ہے لیکن چپے چپے پر پولس تعینات ہے۔ عوام میں ناراضگی برقرار ہے کیونکہ وہ کسی بھی حالت میں کانگریس کے ساتھ تیسرے محاذ کے اشتراک کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں
صحافی عبدالحلیم

مالیگاؤں کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ اس انداز میں میئر کا انتخاب ہوا ہے۔ مقامی افراد دراصل انڈین مسلم کانگریس (آئی ایم سی) یعنی تیسرا محاذ اور کانگریس کے درمیان گٹھ جوڑ سے ناخوش تھے اور اس کا بر ملا اظہار بھی کیا گيا تھا۔ اسی لیے ریاستی حکومت نے علاقے کی کم و بیش ناکہ بندی کر دی تھی۔

مالیگاؤں کے مقامی صحافی عبدالحلیم صدیقی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’اب ماحول پرسکون ہے لیکن چپے چپے پر پولس تعینات ہے۔ عوام کی ناراضگی برقرار ہے کیونکہ وہ کسی بھی حالت میں کانگریس کے ساتھ تیسرے محاذ کے اشتراک کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ یہاں مزدور طبقے کے لوگ زیادہ رہتے ہیں اس لیے پولیس کی رائفلز کے آگے وہ اپنا سر جھکانے پر مجبور ہو گئے ہیں‘۔

مالیگاؤں
مالیگاؤں کو لومز کا شہر بھی کہا جاتا ہے

مالیگاؤں کے عوام مقامی پارٹی جنتا دل سیکولر اور کانگریس سے ناراض تھے۔ اس کی وجہ وہاں کی خراب اقتصادی حالت بتائی جاتی ہے۔ شہر کے ایک سماجی کارکن شکیل ہمدانی کا کہنا تھا کہ ’عوام کا غصہ اس وقت زیادہ بھڑک گیا جب مالیگاؤں فساد کے بعد پولس نے مبینہ طور پر وہاں کے مقامی افراد پر تفتیش کے نام پر مبینہ طور پر ستم ڈھائے۔ شہر میں ایک بھی اچھا سرکاری ہسپتال نہیں ہے۔ اسے آج بھی ضلع کا درجہ نہیں دیا گیاجب کہ یہاں کی آبادی چھ لاکھ سے زیادہ ہے۔اس لیے جب بلدیہ انتخابات ہونے والے تھے اس وقت وہاں کی ناراض عوام نے ایک متبادل پارٹی کا مطالبہ کیا اور جمعیت العلماء نے یہاں انڈین مسلم کانگریس نام کی پارٹی کی تشکیل کی۔ مفتی محمد اسماعیل اس کے صدر بنے اور الیکشن لڑا گیا۔

بلدیہ انتخابات میں عوام نے کھل کر صرف تین ماہ پرانی پارٹی کا ساتھ دیا اور 72 نشستوں والی بلدیہ میں اس پارٹی کے چھبیس امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس پارٹی سے دو غیر مسلم امیداروں نے بھی کامیابی حاصل کی۔

ہمدانی کے مطابق ’آئی ایم سی نے مالیگاؤں میں ترقیاتی کام اور شہریوں کی فلاح کے وعدے کے ساتھ عوام کا اعتماد جیتا تھا لیکن بلدیہ پر قبضہ کے لیے مزید سیٹوں کی ضرورت تھی اور کسی بھی پارٹی سے اتحاد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا‘۔

عوام کی پسند
 عوام کا کہنا تھا کہ آئی ایم سی چاہے شیو سینا سے گٹھ جوڑ کرے لیکن کانگریس اور جنتا دل کے ساتھ اتحاد کو وہ قبول نہیں کریں گے

جب اقتدار کی بات آئی تو عوام کا کہنا تھا کہ آئی ایم سی چاہے شیو سینا سے گٹھ جوڑ کرے لیکن کانگریس اور جنتا دل کے ساتھ اتحاد کو وہ قبول نہیں کریں گے۔اس لیے شیوسینا سے اتحاد کی باتیں شروع ہوئیں عوام نے اس کے لیے حامی بھری اور شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے بھی اس اتحاد کو ہری جھنڈی دکھا دی لیکن مفتی اسماعیل کے مطابق جمعیت کے صدر مولانا ارشد مدنی نے شیوسینا کے ساتھ اتحاد کرنے سے منع کر دیا۔

صدیقی کہتے ہیں کہ عوام جس کانگریس پارٹی سے ناراض تھے اور اس کا انہوں نے الیکشن میں کھل کر اظہار بھی کیا، مفتی اسماعیل نے عوام کی ناراضگی کو بالائے طاق رکھ کر ایک بار پھر کانگریس سے گٹھ جوڑ کرنا شروع کیا۔ ریاستی وزیر داخلہ ولاس راؤ دیشمکھ کے ساتھ ممبئی میں ان کے سرکاری بنگلہ پر ایک میٹنگ ہوئی جس میں مالیگاؤں کے آئی ایم سی صدر مفتی اسماعیل کے ساتھ کانگریس پارٹی کے ریاستی وزیر برائے خوراک بابا صدیقی بھی شریک ہوئے ایک معاہدہ ہوا۔ اس خبر کے ساتھ ہی مالیگاؤں میں عوام بپھر گئے۔

صدیقی کا کہنا تھا کہ ’عوام کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے مفتی اسماعیل نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کانگریس کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کو رد کرتی ہے لیکن پھر دوسرے ہی روز ایک بار پھر اسی معاہدے کی تجدید ہوئی اور بلدیہ میئر کا انتخاب ہوا یہ دراصل اقتدار کی سیاست کا کھیل ہے اور اس مرتبہ انہوں نے اس سے اپنا دامن جھٹکنے کی ایک کوشش کی تھی جو ناکام ہو گئی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد