BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 July, 2008, 20:07 GMT 01:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمد آباد دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

پیوش پٹیل، فوٹو گرافر

انگریزی اخبار ڈی این اے کے فوٹو گرافر پیوش پٹیل کو جب دھماکوں کی خبر ملی تو وہ فوٹو کیچھنے کی غرض سے ساڑھے سات بجے کے آس پاس سول اسپتال پہنچے۔

انہوں نے بی بی سی کوبتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو اس وقت حالات معمول پر تھے۔ اس کے بعد وہ ٹراما سنٹر جانے لگے۔ راستے میں ہی انہیں دھماکے کی آواز سنائی دی۔ وہ آواز ٹراما سنٹر کے پیچھے واقعہ پارکنگ سے آ ئی تھی۔

جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں پانچ سے سات زخمی تڑپ رہے ہيں اور کچھ گاڑیاں جل رہی ہیں۔

جب وہ اپنی گاڑی پارک کر رہے تھے تو ایک دوسرے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں بھی گاڑیاں جل رہی تھیں اور زخمی تڑپ رہے تھے۔

اس وقت تک موبائل فون کے نٹورک جام ہو چکے تھے۔ جس کے سبب لوگ پولیس اور فائر بریگیڈ کو فون نہیں کر پا رہے تھے۔لوگ خود ہی اپنے گھر سے پانی لاکر آگ بجھا رہے تھے۔

وہاں دس منٹ ميں دو دھماکے ہوئے تھے اس لیے لوگوں کو ڈر تھا کہ کہیں اور دھماکے نہ ہو جائيں۔ اسی لیے لوگ زخمیوں کی مدد بھی نہيں کر پا رہے تھے۔

کچھ دیر بعد وہاں پولیس پہنچی اور اسپتال کے ڈاکٹر اور دیگر سٹاف بھی پہنچے۔ پیوش نے بتایا کہ جہاں دھماکے ہوئے وہاں گیس کے دو تین چھوٹے سلنڈر پھٹے ہوئے ملے اور سائکل اور سکوٹر بھی جلے پڑے ہوئے تھے۔


حاجی اسرار بیگ سابق سرپنچ، جوہاپورا

جس وقت دھماکہ ہوا حاجی اسرار سنگم سنیما کے نزدیک موجود تھے۔انہوں بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ساون پاٹی پلاٹ میں بس نمبر 107 میں ایک دھماکہ ہوا۔’اس وقت بس میں کئی مسافر سوار تھے اور اور بس چل رہی تھی۔ جب دھماکہ ہوا تو پہلے مسافروں کو ایسا لگا کہ سی این جی کی ٹنکی پھٹ گئی ہے۔ ڈرائیور کو بھی پتہ نہیں چلا کہ بس میں دھماکہ ہوا ہے۔ لیکن جب ذرا دیر بعد ڈرائیور نے بس روکی تو وہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اس وقت تک یہ بھی پتہ چلنے لگا تھا کہ شہر کے ديگر مقامات میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔ بس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کم از کم پندرہ افراد زخمی ہوئے۔


رامانج، سپرٹنڈنٹ دھن ونتری ہسپتال

راما نج نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ سنیچر کی شام 7:35 کی بات ہے اور وہ اس وقت وہ باپو نگر علاقے میں واقع اپنے ہسپتال میں تھے کہ انہيں پتہ چلا کہ شہر کے دیگر علاقوں ميں دھماکے ہوئے ہیں۔

رامانج کے مطابق اسی وقت ہسپتال میں ایک بیگ دیکھا گیا۔ اس وقت تک سب کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس میں بم ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں نے بیگ کے پاس سے لوگوں کو وہاں سے دور ہٹا دیا اور پھر ان کے سامنے ہی دھماکہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ہسپتال کے نیچے جو دھماکہ ہوا اس میں تو کوئی زخمی نہیں ہوا لیکن ہسپتال کے نزدیک ہی ایک منٹ پہلے دھماکہ ہوا تھا جس کے زخمی ان کے ہسپتال میں آنے لگے۔ وہاں آئے مریضوں میں کسی کو سینے میں لگا تھا اور کسی کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔ اور انہیں فرسٹ ایڈ دی گئی۔

رامانج کے ہسپتال کی ابمولینس جو مریضوں کو سول ہسپتال لے جا رہی تھی جب وہ ہسپتال پہنچی تو وہاں بھی ایک دھماکہ ہوا جس سےگاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اور ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں کو چوٹيں آئيں۔

 بنگلور دھماکےبنگلور دھماکے
دھماکوں کا مقصد شہر میں دہشت پھیلانا تھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد