BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 July, 2008, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا

 بنگلور دھماکے
اس سے قبل 2005 میں بنگلور ميں شدت پسند حملہ ہوا تھا، جس میں ایک پروفیسر کی موت ہو گئی تھی
جمعہ کو ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور ميں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ظاہر ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد شہر ميں دہشت پھیلانا تھا، نہ کہ کسی کو مارنا۔

حملہ آوروں کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی کیونکہ دوپہر تک پورا شہر ایک طرح سے تھم سا گیا تھا اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔

ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ تو تفتیش کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن اطلاعات کے مطابق حکام کو ممنوعہ تنظيم سٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ آف انڈیا یعنی’ سیمی‘ پر شک ہے۔

ان دھماکوں سے دہشت پھیلانے کا مقصد یہی تھا کہ دھماکوں کی آواز بین الاقوامی سطح تک پہنچے۔ بنگلور ایک ایسا شہر ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کی وجہ سے بین الا قوامی سطح پر جانا جاتا ہے۔

کرناٹک میں حال ہی ميں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے۔ دھماکوں کے بعد وزیر اعلی یدورپّا نے کہا کہ انہیں ان دھماکوں کے پیچھے ایک ساز ش نظر آر ہی ہے اور ان کی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی ایک پارٹی کا نام نہیں لیا لیکن ان کا سیدھا اشارہ کانگریس یا جنتا دل سکیولر کی طرف تھا۔

حملہ آوروں کو دہشت پھیلانے میں کامیابی ملی ہے دھماکوں کے بعد ایک طرح سے شہر تھم سا گیا تھا
وہیں کانگریس کے ایک رہنما نے بی جے پی پر ہی الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر یہ دھماکے کروائے گئے ہیں۔

حال ہی میں اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے دہشتگردی کو ایک اہم ایشو قرار دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی جانب سے اس طرح کا قدم اٹھانا ان کے مفاد میں نہيں ہے۔ کیو نکہ وہ خود اقتدار میں ہیں اور اب وہ خود کسی دوسرے کو ریاست میں پیش آئے واقعات کے لیے ذمےدار نہیں ٹھہرا سکتے ہیں۔

دو ہفتے قبل مسلمانوں کے اکثریت والے علاقے میں دو مساجد کے قریب خنزیر کا گوشت پایا گیا تھا جس کے بعد معمولی پتھراؤ ہوا تھا لیکن پولیس نے حالات پر قابو پا لیا تھا۔

جمعہ کو جن علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں ان ميں ایسا نہیں ہے کہ وہ ہندو اکثریت والے علاقے ہيں یا پھر مسلم اکثریت والے علاقے ہیں۔ بلکہ یہ علاقے مخلوط آبادی پر مشتمل ہيں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مستقبل میں اس سے بھی بڑا کوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔

ان دھماکوں کا آئی ٹی انڈسٹری پر معمولی اثر ہی دیکھا گيا ہے۔ اب کمپنیاں سکیوروٹی کے مزید سخت انتظامات پر غور کر رہی ہیں
جب بی جے پی اقتدار میں آئی تو مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا تھا لیکن ان دھماکوں کے بعد مسلم برادری میں کسی طرح کے خدشات نہيں دیکھے جا رہے ہیں۔ لیکن تفتیس کے دوران جب پولیس اپنی کاروائی کرے گی اور اگر وہ سیمی کو نشانہ بناتی ہے اور مسلمانوں کو ایسا لگتا ہے کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے تو اس وقت حالات کشیدہ ہوسکتے ہيں۔

یوں تو بنگلور ميں ’سیمی‘ سرگرم نہیں ہے لیکن اسمبلی انتخابات کے دوران ہبلی شہر میں اسی نوعیت کا ایک دھماکہ ہوا تھا اس لیے پولیس کے نشانے پر سیمی کے کارکن ہیں۔

ہبلی میں ہی پولیس نے بعض افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن پر دہشتگرد حملے کی سازش کرنے سے متعلق مقدمات جاری ہیں۔

ان دھماکوں کا آئی ٹی انڈسٹری پر معمولی اثر ہی دیکھا گيا ہے۔ اب کمپنیاں سکیوروٹی کے مزید سخت انتظامات پر غور کر رہی ہیں۔

پریسپریس کے اشارے
حرکت الجہاد اور لشکر طیبہ پر شک
مالیگاؤںمالیگاؤں دھماکے
دھماکوں کی برسی:لوگ یومِ سیاہ منا رہے ہیں
موہن ریڈیحیدرآباد دھماکے
’بچوں، خواتین کو تڑپتے دیکھا تو بدحواس ہوگیا‘
بنارس دھماکے (فائل فوٹو)انڈیا میں دھماکے
انڈیا میں ہونے والے حالیہ دھماکے اور زمینی حقائق
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد