دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کو ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور ميں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ظاہر ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد شہر ميں دہشت پھیلانا تھا، نہ کہ کسی کو مارنا۔ حملہ آوروں کو اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی کیونکہ دوپہر تک پورا شہر ایک طرح سے تھم سا گیا تھا اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ تو تفتیش کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن اطلاعات کے مطابق حکام کو ممنوعہ تنظيم سٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ آف انڈیا یعنی’ سیمی‘ پر شک ہے۔ ان دھماکوں سے دہشت پھیلانے کا مقصد یہی تھا کہ دھماکوں کی آواز بین الاقوامی سطح تک پہنچے۔ بنگلور ایک ایسا شہر ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کی وجہ سے بین الا قوامی سطح پر جانا جاتا ہے۔ کرناٹک میں حال ہی ميں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے۔ دھماکوں کے بعد وزیر اعلی یدورپّا نے کہا کہ انہیں ان دھماکوں کے پیچھے ایک ساز ش نظر آر ہی ہے اور ان کی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی ایک پارٹی کا نام نہیں لیا لیکن ان کا سیدھا اشارہ کانگریس یا جنتا دل سکیولر کی طرف تھا۔
حال ہی میں اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے دہشتگردی کو ایک اہم ایشو قرار دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی جانب سے اس طرح کا قدم اٹھانا ان کے مفاد میں نہيں ہے۔ کیو نکہ وہ خود اقتدار میں ہیں اور اب وہ خود کسی دوسرے کو ریاست میں پیش آئے واقعات کے لیے ذمےدار نہیں ٹھہرا سکتے ہیں۔ دو ہفتے قبل مسلمانوں کے اکثریت والے علاقے میں دو مساجد کے قریب خنزیر کا گوشت پایا گیا تھا جس کے بعد معمولی پتھراؤ ہوا تھا لیکن پولیس نے حالات پر قابو پا لیا تھا۔ جمعہ کو جن علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں ان ميں ایسا نہیں ہے کہ وہ ہندو اکثریت والے علاقے ہيں یا پھر مسلم اکثریت والے علاقے ہیں۔ بلکہ یہ علاقے مخلوط آبادی پر مشتمل ہيں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مستقبل میں اس سے بھی بڑا کوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔
یوں تو بنگلور ميں ’سیمی‘ سرگرم نہیں ہے لیکن اسمبلی انتخابات کے دوران ہبلی شہر میں اسی نوعیت کا ایک دھماکہ ہوا تھا اس لیے پولیس کے نشانے پر سیمی کے کارکن ہیں۔ ہبلی میں ہی پولیس نے بعض افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن پر دہشتگرد حملے کی سازش کرنے سے متعلق مقدمات جاری ہیں۔ ان دھماکوں کا آئی ٹی انڈسٹری پر معمولی اثر ہی دیکھا گيا ہے۔ اب کمپنیاں سکیوروٹی کے مزید سخت انتظامات پر غور کر رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں بنگلور: دوسرے دن بم ناکارہ بنایا گیا26 July, 2008 | انڈیا بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||