BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 August, 2008, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر بھر میں کرفیو اور جنازے

کشمیر میں جنازے
کشمیر ميں گذشتہ تین دنوں سے مظاہرے جاری ہيں جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہيں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جموں شاہراہ پر ہندو بلوائیوں کی ناکہ بندی کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں تین دن میں انیس افراد کی ہلاکت کے بعد بدھ کو بھی کشیدگی برقرار ہے اور کشمیر کے سبھی بارہ اضلاع اور جموں کے علاقے کشتواڑ میں کرفیو نافد ہے۔

گزشتہ تیرہ برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیر کے سبھی اضلاع میں ایک ساتھ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ تاہم سرینگر اور باڑگام میں صبح آٹھ بجے سے گيارہ بجے کے درمیان کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔

مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائیوں میں بدھ کی صبح تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں انیس اور جموں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف وادی میں گذشتہ دو دنوں کے مظاہروں کے درمیان چوبیس افراد مارے گئے ہیں۔

بدھ کو ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں کا تعلق سرینگر سے تھا اور وہ منگل کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران زخمی ہوگئے تھے اور انہوں نے بدھ کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ بدھ کو کشمیر بھر میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی ہے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

مزید ہلاکتوں کی خبر پھیلتے ہی پائین شہر اور دیگر بستیوں میں مشتعل نوجوانوں نے مقامی پولیس سٹیشنوں پر حملے کیے اور ان واقعات میں کم از کم سات افراد زخمی ہوگئے۔ صفاکدل، مہاراج گنج ، فتح کدل پولیس تھانوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش بھی کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

اب تک ہونے والے جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی تعداد پانچ سو سے زائد ہو چکی ہے اور مقامی پولیس کے مطابق زخمیوں میں ایک سو بانوے سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے صوبائی سربراہ کلدیپ کمار کھوڑا نے منگل کی شام ایک پریس کانفریس میں بتایا ’دو روز کے دوران سترہ افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے، جن میں ایک سو بانوے پولیس و نیم فوجی عملے کے اہلکار بھی شامل ہیں‘۔

کلدیپ کھوڑا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’گو کہ پولیس اور دیگر فورسز نے ہر جگہ امن و قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں تشدد پر آمادہ بھیڑ پر گولی چلائی، لیکن ہم ان تمام واقعات کی تہہ تک جانے کے لئے ایف آئی آر کی بنیاد پر مزید تحقیقات کریں گے‘۔

بدھ کو مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی

اس دوران سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال اور شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایمرجنسی شعبوں سے وابستہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے باعث ضروری ادویات اور طبی ساز و سامان کا فقدان ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کی نگہداشت میں مشکلات درپیش ہیں۔

تاہم محکمہ داخلہ کے نگران حاکم انِل گوسوامی نے بتایا ’نیشنل ہائی وے پر کوئی بلاکیڈ (ناکہ بندی) نہیں ہے، اور مال بردار گاڑیاں برابر وادی آرہی ہیں اور یہاں سے جموں جا رہی ہیں‘۔

واضح رہے کشمیری میوہ کاشتکاروں اور میوہ صنعت سے جُڑے تاجروں نے گیارہ اگست کو جموں میں ہندو شدت پسند گروپوں کی طرف سے جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے خلاف مظفرآباد روڈ کھولنے کے لیے ایک عوامی تحریک چھیڑدی جس کے دوران علیٰحدگی پسندوں اوردیگر عوامی حلقوں کی حمایت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن کے اُس مقام کی طرف مارچ کرنے لگے جہاں سے مظفرآباد کی طرف راستہ جاتا ہے۔

’مظفرآباد چلو‘ عنوان سے چلائی جارہی اس تحریک کے پہلے روز یعنی سوموار کو چھ مقامات پر فوج اور پولیس نے عوامی قافلے روکنے کی کوشش کی جس دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے اور پولیس و فوج کی فائرنگ سے حریت رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔

شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت سے پوری وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی خطوں میں تناؤ پیدا ہوگیا اور منگل کو انتظامیہ نے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا، لیکن ہزاروں افراد نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگر کی جامع مسجد میں شیخ عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں

شیخ عزیز کی آخری رسومات کے دوران مزار شہداء میں اجتماع سے خطاب کے دوران سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر نے ہلاکتوں کے خلاف مزید تین روز تک ’پرامن‘ احتجاج جاری رکھنے اور بھارتیِ یومِ آزادی پندرہ اگست کو یوم سیاہ کے طور منانے کا اعلان کیا۔

یاد رہے جموں اور کشمیر میں جاری اس تازہ شورش کا سبب چھبیس مئی کا ایک سرکاری حکم نامہ ہے جس کی رو سے جنوبی کشمیر میں واقع امرناتھ گھپا کی یاترا کرنے والے ہندو یاتریوں کی سہولیت کے لیے یاترا کے منتظم ادارہ امرناتھ شرائن بورڈ کو سرکار کی جنگلاتی اراضی میں سے ننانوے ایکڑ زمین منتقل کرنے کی تصدیق کی گئی۔

اس کے خلاف تیس جون سے کشمیر میں احتجاجی مہم شروع ہوئی جس کے دوران ایک لڑکی سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ حکومت نے حکم نامہ منسوخ کیا اور اراضی محکمہ جنگلات کو لوٹا دی۔ لیکن اس پر جموں میں ہندو نواز سیاسی جماعت بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں نے پر تشدد تحریک چھیڑ دی، جو پچھلے سینتالیس روز سے جاری ہے۔ اس تحریک کے دوران ہندو انتہا پسند گروپوں نے سرینگر اور جموں ملانے والی واحد شاہراہ بھی بند کر دی۔

ناکہ بندی کے باعث ضروری اشیا کی قلت ہونے کے علاوہ میوہ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور انہوں نے مظفرآباد کے راستے تجارت بحال کرنے کی خاطر تحریک چھیڑ دی۔

کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
شیخ عبدالعزیزشیخ عبدالعزیز
’تحریک آزادیِ کشمیر کا نیا شہید‘
خاک اور خون
کشمیر: مظاہرے اور ہلاکتیں، تصاویر میں
کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد