لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو کئی مرتبہ اعلانیہ طور پر عبور کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں جن کی تفصیلات حسب ذیل ہیں: 28 جون سن 1958 انہوں نے مختلف علاقوں سے سیز فائر لائن عبور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن زیادہ زور چکوٹھی کی طرف سے تھا۔ پاکستان کے اس وقت کے حکمران فیروز خان نون نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ 11 فروری 1990 اس بار یہ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ( جے کے این ایس ایف) نے دی تھی۔( سن انیس سو بہتر میں ہندوستان اور پاکستان کے مذاکرات کے نیتجے میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنڑول کا نام دیا گیا۔) یہ کوشش کشمیر میں مسلح تحریک کے آغاز کے کوئی ڈیڑھ سال بعد کی گئی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ البتہ جے کے این ایس ایف کے کچھ حامی لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حصے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وہاں اپنی تنظیم کا جھنڈا بھی لہرایا۔ لیکن واپسی پر ان میں سے تین لوگ بھارتی افواج کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ 11 فروری سن 1992 اس وقت کی پاکستان کی نوازشریف کی حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لئے بھر پور طاقت کا استعمال کیا اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ 30 مارچ سن 1992 24 اکتوبر 1992 لوگوں نے مظفرآباد کے سرحدی قصبہ چکوٹھی، جنوبی ضلع راولاکوٹ کے سرحدی علاقے میر پور اور جنوبی ضلع بھمبھر کی طرف سے لائن آف کنڑول کر طرف مارچ کیا۔ لائن آف کنڑول عبور کرنے کی یہ اس سال میں تیسری کوشش تھی۔ لیکن پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک بار پھر یہ کوشش ناکام بنادی۔ اس کوشش میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی گولیوں کے باعث جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایک حامی چکوٹھی کے مقام پر ہلاک ہوا۔ چار اپریل 1993 4 اکتوبر 1999 لائن آف کنڑول کو توڑنے کی ان تمام کوششوں کا بنیادی اور اہم مقصد یہ تھا کہ اقوام عالم کی توجہ تنازعہ کشمیر کی طرف مبذول کرائی جائے۔ 11اگست 2008 اس کوششش کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک کشمیری رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت کوئی دو درجن افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ یہ اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس کا سیاسی پہلو کے ساتھ ساتھ معاشی پہلو بھی تھا۔ لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کی کال کشمیر کے میوہ تاجروں نے دی تھی جس کی حمایت کشمیر کی تمام علیحدگی پسندوں نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں کے ہندوؤں نے سری نگر جموں نیشنل ہائی وے کو بند کر کے سری نگر کی اقتصادی ناکہ بندی ہے جس کے سبب انہیں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ماضی میں لائن آف کنڑول کھولنے کا ایک سیاسی نعرہ تھا لیکن اب کشمیر کے تاجر اپنے اقتصادی حالات کے مد نظر پاکستان کا رخ کرنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||