BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 00:06 GMT 05:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششیں

سن انیس سو بہتر میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا
سن انیس سو بہتر میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا
انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو کئی مرتبہ اعلانیہ طور پر عبور کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں جن کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:

28 جون سن 1958
برصغیر کی تقسیم کے دس سال بعد 28 جون سن 1958 کو پہلی مرتبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہزاروں لوگوں نے کشمیری رہنماؤں چوہدری غلام عباس اور کے ایچ خورشید کی قیادت میں دونوں کشمیر کو تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن عبور کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے مختلف علاقوں سے سیز فائر لائن عبور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن زیادہ زور چکوٹھی کی طرف سے تھا۔ پاکستان کے اس وقت کے حکمران فیروز خان نون نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

11 فروری 1990
تیس سال بعد سن انیس سو نوے میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کو دوسری مرتبہ چکوٹھی کے راستے عبور کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس بار یہ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ( جے کے این ایس ایف) نے دی تھی۔( سن انیس سو بہتر میں ہندوستان اور پاکستان کے مذاکرات کے نیتجے میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنڑول کا نام دیا گیا۔)

یہ کوشش کشمیر میں مسلح تحریک کے آغاز کے کوئی ڈیڑھ سال بعد کی گئی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

البتہ جے کے این ایس ایف کے کچھ حامی لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حصے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وہاں اپنی تنظیم کا جھنڈا بھی لہرایا۔ لیکن واپسی پر ان میں سے تین لوگ بھارتی افواج کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

11 فروری سن 1992
گیارہ فروری انیس سو بیانوے کو جموں کشمیر لبیرشن فرنٹ یعنی( جے کے ایل ایف) کی کال پر ہزاروں کشمیریوں نے چکوٹھی کے راستے سے لائن آف کنڑول عبور کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اس کی قیادت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما امان اللہ خان کر رہے تھے۔

اس وقت کی پاکستان کی نوازشریف کی حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لئے بھر پور طاقت کا استعمال کیا اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

30 مارچ سن 1992
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے حامیوں نے ایک بار پھر اپنے سربراہ امان اللہ خان کی قیادت میں لائن آف کنڑول کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کی نواز شریف کی حکومت نے اس کوشش کو بھی ناکام بنادیا۔ لیکن اس کوشش کے دوران کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔

24 اکتوبر 1992
24 اکتوبر 1992 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی چار سیاسی جماعتوں جن میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، جموں کشمیر لبریشن لیگ، جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور تحریک عمل کی کال پر ہزاروں لوگوں نے لائن آف کنڑول عبور کرنے کی کوشش کی۔

لوگوں نے مظفرآباد کے سرحدی قصبہ چکوٹھی، جنوبی ضلع راولاکوٹ کے سرحدی علاقے میر پور اور جنوبی ضلع بھمبھر کی طرف سے لائن آف کنڑول کر طرف مارچ کیا۔ لائن آف کنڑول عبور کرنے کی یہ اس سال میں تیسری کوشش تھی۔

لیکن پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک بار پھر یہ کوشش ناکام بنادی۔ اس کوشش میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی گولیوں کے باعث جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایک حامی چکوٹھی کے مقام پر ہلاک ہوا۔

چار اپریل 1993
بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم ممتاز حسین راٹھور کی قیادت میں سینکڑوں لوگوں نے چکوٹھی کے راستے لائن آف کنڑول عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس بار بھی پاکستان میں نواز شریف کی حکومت نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

4 اکتوبر 1999
امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینکڑوں حامیوں نے اپنے رہنما کی قیادت میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جنوبی ضلع راولاکوٹ میں تیتری نوٹ کے راستے لائن آف کنڑول عبور کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

لائن آف کنڑول کو توڑنے کی ان تمام کوششوں کا بنیادی اور اہم مقصد یہ تھا کہ اقوام عالم کی توجہ تنازعہ کشمیر کی طرف مبذول کرائی جائے۔

11اگست 2008
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لاکھوں کشمیریوں نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول عبور کرنے کی ناکام کوشش کی۔

اس کوششش کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک کشمیری رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت کوئی دو درجن افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ یہ اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس کا سیاسی پہلو کے ساتھ ساتھ معاشی پہلو بھی تھا۔

لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کی کال کشمیر کے میوہ تاجروں نے دی تھی جس کی حمایت کشمیر کی تمام علیحدگی پسندوں نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں کے ہندوؤں نے سری نگر جموں نیشنل ہائی وے کو بند کر کے سری نگر کی اقتصادی ناکہ بندی ہے جس کے سبب انہیں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ماضی میں لائن آف کنڑول کھولنے کا ایک سیاسی نعرہ تھا لیکن اب کشمیر کے تاجر اپنے اقتصادی حالات کے مد نظر پاکستان کا رخ کرنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔

خاک اور خون
کشمیر: مظاہرے اور ہلاکتیں، تصاویر میں
شیخ عبدالعزیزشیخ عبدالعزیز
’تحریک آزادیِ کشمیر کا نیا شہید‘
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
کشمیر احتجاجکرفیو، جنازے، سوگ
کشمیر: کرفیو، جنازوں اور سوگ کا تیسرا دن
بھارتی فوجیفوج کی چڑھائی
سری نگر میں صرف دو دن میں بیس افراد ہلاک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد